دھرتی ماں کو کھانا چھوڑ دیں

پنجاب کے ضمنی انتخابات میں فتح کسی کی بھی ہو شکست دونوں صورتوں میں عوام ہی کی ہوگی۔تاریخ گواہ ہے کہ مملکتِ خدا د اد میں انتخابات کا دن دو طبقات کے گرد گھومتا ہے: پہلا طبقہ دھوکا دینے والوں کا اور دوسرا دھوکا کھانے والوں کا۔دھوکا دینے والے پارٹی‘ قائد اور وفاداریوں کی تبدیلی کے ساتھ ہر بار نیا بیانیہ‘ نیا جھانسہ اور ہر بار نئے خواب بیچنے کے لیے عوام کی منڈی میں چلے آتے ہیں اور عوام بھی اس قدر سادہ ہیں کہ میرؔ کا شعر ان پر پورا فٹ بیٹھتا ہے۔
میرؔ کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں
یوں لگتا ہے عوام کو جھوٹ‘ بدعہدی اور دھوکے کی ایسی لت لگ چکی ہے کہ یہ جانتے بوجھتے اپنے ہاتھوں سے اپنے مقدر بگاڑتے چلے آرہے ہیں۔اپنی سیاہ بختی اور ذلت کے سبھی اسباب خود اپنے ہی ہاتھوں سے کرنے والے عوام کی رگوں میں اس لت کے اثراتِ بد اس طرح سرایت کر چکے ہیں کہ انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا کہ جو امیدوار ان کے دروازے پر ووٹ کے لیے دستِ سوال دراز کیے ہوئے ہے وہ خود ضرورت مند اور مجبوریوں کا مارا ہوا ہے۔ کبھی اس در پرتو کبھی اُس در پر۔اپنے اعمال اور کرتوتوں سے بلیک میل ہو کر نجانے کتنی پارٹیاں اور کتنے آقابدل کر آیا ہے۔جو اپنی دنیا سنوارنے کے چکر میں مست ہے وہ عوام کے دن کیا سنوارے گا۔خدا جانے ان کاریگر وں کے پاس کوئی ہنر ہے یا کوئی جنتر منتر کہ عوام ان کے شیشے میں ہر بارہنسی خوشی بھاگ بھاگ کر اتر جاتے ہیںحالانکہ ووٹوں کے لیے گلی محلوں میں نوٹنکی کرتے سبھی باربار آزمائے اور جانے پہچانے وہ لوگ ہیں جنہیں عوام ہر الیکشن میں خود پر مسلط کرنے کے لیے قطاروں میں کھڑے ہو کر ان کے حق میں مہریں لگاتے ہیں اور الیکشن جیتنے کے بعد اسی مہر کی سیاہی یہ سبھی جیتنے والے مینڈیٹ دینے والوں کے منہ پر ملتے ذرا بھی شرم اور ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔
ٹاپ ٹرینڈ انتخابی معرکے پر سیاسی پنڈت ہوں یا دور کی کوڑی لانے والے‘ سبھی کے اپنے اپنے قیافے اور اپنی اپنی پیش گوئیاں ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ اگر حکومتی امیدوار کامیاب ہوا تو سیاسی منظر نامہ اس طرح ہوگا‘ تو کسی کا دعویٰ ہے کہ اگرتحریک انصاف کامیاب ہوگئی تو سیاسی میدان کا نقشہ کچھ یوں ہوگا‘ سیاسی بیانیوں سے لے کر دانشوروں کے دعووں تک اخبارات ہوں یا ٹاک شوز‘ سبھی کی اپنی اپنی منطق اور جواز ہیں۔یہ منظرنامہ ہرگز نیا نہیں‘ آج بازی گر کیا چال چلتے ہیں اور کامیابی کس کا مقدر بنتی ہے‘ یہ فیصلہ اگلے چند گھنٹوں میں ہونے جارہا ہے۔ کامیاب حکومتی امیدوار ہو یا پی ٹی آئی کا‘ شکست بہر حال عوام کا ہی مقدر بنے گی۔ سیاسی بازیگر ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں‘ یہ کبھی نہیں ہارتے‘ یہ ہار کے بھی جیت جاتے ہیں اور ہر دور میں ہر بازی عوام نے ہی ہاری ہے۔ نہ انہیں عوام سے کوئی سروکار ہے اور نہ ہی عوام کی حالتِ زار سے‘ تعجب ہے حصولِ اقتدار سے لے کر طولِ اقتدار تک۔احسان عوام پر ہی کرتے ہیں کہ ملک و قوم کے بہترین مفاد میں یہی فیصلہ موزوں تھا‘ اپنی کامیابیوں کو عوام ہی کی فتح قرار دیتے ہیں لیکن برسرِ اقتدار آتے ہی عوام کو اس طرح فراموش کرڈالتے ہیں گویا عوام کے نام سے بھی واقف نہ ہوں۔ ان کی اصلاحات ہوں یا پالیسیاں‘ طرزِ حکمرانی ہو یا میرٹ‘ ان سبھی میں عوام مائنس ہی رہتے ہیں۔
ہر الیکشن کو عوام کی فتح سے منسوب کرنے والی سیاسی اشرافیہ کے سامنے عوام کی حیثیت ہی کیا ہے۔ عوام اور ان کے درمیان بس ایک ووٹ کا رشتہ ہے‘ ادھر ووٹ حاصل کیا اُدھر تم کون اور ہم کون۔ اس کے برعکس عوام ان سے مانگتے ہی کیا ہیں؟ حکومت انہیں اُن بنیادی ترین ضرورتوں سے تو محروم نہ کرے جو بحیثیتِ انسان ان کاحق بنتی ہیں۔ عوام کیلئے بس یہی کافی ہے‘ وہ اپنی ضرورت سے زیادہ کچھ بھی نہیں مانگتے۔مگر عوام کے یہ حکمران انہیں انسان ہی کب سمجھتے ہیں؟ جب یہ عوام کو انسان کے مرتبے پر فائز کردیں گے شاید اُس دن انہیں وہ انسانی حقوق بھی مل جائیں گے جن کی جستجو میں نجانے کتنی دہائیوں کا سفر کرنے کے باوجود عوام آج بھی ہلکان اور لہولہان ہیں۔ تمام عمر گنوانے کے باوجود عوام کا وہ گھر نہیں آیا جس کے سہانے خواب انتخابات میں ان کے مسیحا انہیں دکھاتے آئے ہیں۔ بیچارے بھولے عوام جنہیں بے پناہ چاہتے ہیں‘ ان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد پھر انہی سے پناہ مانگتے پھرتے ہیں‘ جنہیں نجات دہندہ سمجھتے ہیں پھر انہی سے نجات کیلئے منتیں مانگتے نظر آتے ہیں۔
مخلوق کی ضروریات اور حاجات سے وابستہ ہونا یقینا باعثِ اعزاز ہے اور یہ اعزاز قدرت ہر کسی کو عطا نہیں کرتی۔ ربِّ کائنات یہ اعزاز انہی بندوں کو عطا کرتا ہے جنہیں وہ اس کام کیلئے منتخب کرتا ہے۔ گورننس جہاں قدرت کا بہت بڑا انعام ہے‘ وہاں اتنا ہی بڑا امتحان بھی ہے۔ حکمران ماضی کے ہوں یا دورِ حاضر کے‘ سبھی کو قدرت نے گورننس کے یکے بعد دیگرے کئی مواقع عطا کیے۔ اس عطا میں خطا کی گنجائش ہرگز نہیں ہوتی اور خطا کے باوجود عطا جاری رہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ قدرت مزید مہلت دینے پر آمادہ ہے‘ اور اس مہلت کو غنیمت اور نعمت سمجھ کر اپنے طرزِ حکمرانی اور معاملات پر نظرِثانی کی زحمت نہ کسی نے گوارا کی نہ ہی کسی کو توفیق ہوئی کہ پلٹ کر دیکھ ہی لیں کہ جس مقصد کیلئے انہیں قدرت نے منتخب کیا ہے‘ وہ مقصد پورا بھی ہوایا نہیں؟
بدقسمتی سے ہمارے ہاں قدرت نے جسے بھی گورننس کی نعمت عطا کی اُس نے اس عطا کو اپنی استادی‘ مہارت اور اہلیت سے ہی منسوب کر ڈالا‘ گویا یہ قدرت کی عطا نہیں بلکہ خود ان کی کسی اداکاری کا چمتکار ہے‘ حالانکہ گورننس کی عطا نہ تو کسی کی مہارت ہے اور نہ ہی کسی کی اہلیت۔ یہ تو بس قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ وہ جس کو بھی عطا کرے۔ خطا در خطا کے باوجود مہلت کا میسر رہنا یقینا کسی امتحان سے کم نہیں۔ ہمارے سبھی حکمرانوں کو یہ عطا اور مسلسل مہلت کثرت سے میسر آتی رہی ہے۔ جوں جوں یہ مواقع انہیں میسر آتے رہے‘ توں توں یہ بوئے سلطانی کی دلدل میں دھنستے چلے گئے۔ کبھی جُھرلو تو کبھی دھاندلی۔ کبھی ڈنڈی تو کبھی ڈنڈا۔ کبھی صفائی تو کبھی صفایا‘ حتیٰ کہ بیلٹ کو بُلّٹ سے منسوب کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا گیا۔ حصولِ اقتدار سے لے کرطولِ اقتدار تک‘ یہ سبھی نظارے چشمِ فلک نے کثرت سے دیکھے ہیں۔
انتخابی میدان میں تمام سیاسی قوتیں ایک دوسرے کو پچھاڑنے کے لیے سبھی حدیں پار کرکے ایڑی چوٹی کا زور تو لگارہی ہیں لیکن خاطرجمع رکھیں نہ ماضی میں انہوں نے کوئی توپ چلائی تھی اور نہ ہی تختِ پنجاب حاصل کرنے کے بعدچلاپائیں گے۔ضرورت مندوں کی فوج مختلف روپ بہروپ دھارے نجانے کب سے اقتدار کے بٹوارے کے ساتھ ساتھ ملکی وسائل کوذاتی ترقی اور اللوں تللوں میں اڑائے چلی جارہی ہے۔ کھانے والوں نے اس ڈھٹائی سے کھایا ہے کہ ملکی معیشت کا پیندا ہی چاٹ گئے ہیں۔بے پیندے کی معیشت کے برتن میں اقدامات اور اصلاحات کے سمندر بھی انڈیل دیں توایک قطرہ بھی ٹھہرنے والا نہیں۔بخدا اسے کھانا اور بھنبھوڑنا چھوڑ دیں تو نہ کسی اقتصادی ارسطو کی ضرورت ہے نہ ہی معاشی پنڈت کی۔خدارا! دھرتی ماں کو کھانا چھوڑ دیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.