اب عمر کی نقدی ختم ہوئی

مملکتِ خدا داد کا منظر نامہ روز بروز گمبھیر ہوتا چلا جارہا ہے۔ حالاتِ حاضرہ کی حالت پر تبصرہ کرنے کے لیے برمحل الفاظ اور استعارے بھی کم پڑ چکے ہیں۔ خیال اس حالتِ زار کی عکاسی اور ترجمانی سے قاصر ہے۔ ان حالاتِ پریشاں پر قلم سے نکلنے والی سیاہی بھی آنسو بن کر کاغذ کو بھگوتی چلی جاتی ہے۔تحریر کیے جانے والے الفاظ پر رقت طاری ہے۔ اس آہ و بکا سے ماحول سوگوار ہے ‘ ہر طرف اداسی اور ویرانی کا راج ہے۔ کہیں صادق اور امین کے معنی الٹا دیے گئے ہیں تو کہیں حکمرانی محض من مانی نظر آتی ہے۔ کہیں روٹیوں کے لالے پڑے ہیں تو کہیں علاج کے لیے دربدر بھٹکنے والے مریض موت کا شکار ہو رہے ہیں۔ کرچی کرچی خیالات اور ریزہ ریزہ احساسات نفسیات کے ساتھ ساتھ دل کا بھی کام تمام کیے چلے جارہے ہیں۔ کیسے کیسے چہرے بے نقاب ہو رہے ہیں اور کیسے کیسے نجات دہندہ نادہندہ نکلے ہیں۔ نسل در نسل لٹتے اور مٹتے عوام‘ دادا کی جگہ پوتے اور باپ کی جگہ بیٹے کی حکمرانی جھیلنے پر مجبور ہیں۔ سماجی انصاف اور داد رسی جیسے ڈھکوسلے تو صرف بھاشنوں تک محدود ہیں۔ آئین اور حلف سے انحراف کرنے والے کس ڈھٹائی سے وعدوں اور دعووں سے منحرف ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ احترامِ آدمیت سے لے کر عدل و انصاف تک سبھی کچھ حسرت بن چکا ہو تو کیسا ملک اور کہاں کی حکمرانی۔
شوقِ حکمرانی کے ماروں نے مار و مار سے لے کر مار دھاڑ تک‘ سبھی کو اس طرح نصب العین بنا ڈالا ہے کہ سرکاری وسائل سے لے کر اقتدار کی بندر بانٹ تک کے علاوہ تباہی اور بربادی کے سبھی مناظر میں نہ صرف برابر کے شریک ہیں بلکہ ہاتھ بھی برابر کے رنگے ہوئے ہیں۔ حکمران ماضی کے ہوں یا دورِ حاضر کے‘ سبھی ایک دوسرے کے ریکارڈ‘ ریکارڈ مدت میں توڑنے کے علاوہ بدترین طرزِ حکمرانی کے نئے ریکارڈز بھی بناتے چلے جا رہے ہیں۔ ایسے میں حالاتِ پریشاں پر قلم آرائی دکھوں اور تکلیفوں کے اس سفر کو مزید اذیت ناک بنانے کا باعث ہے؛ تاہم مجہول سیاست ہو یا ضرورت مند سیاسی رہنماؤں کی شعبدہ بازیاں‘ شرمسارگورننس ہو یا تار تارمیرٹ‘ ساتویں آسمان پر ڈالر کی اڑان ہو یا ہرلمحہ ٹکے ٹوکری ہوتی قومی کرنسی کی قدر‘ مہنگائی کا بھڑکتا الاؤ ہو یا خاکستر ہوتی قوتِ خرید‘ غیرتِ قومی سے لے کر چادر اور چار دیواری سمیت سبھی کے بارے میں تجزیہ زخموں پر نمک ڈالنے کے مترداف ہے۔ خوف اور خواہش کے درمیان پنڈولم کی طرح جھولتے سیاسی رہنما اور ان کے سہولت کاروں کے بارے میں لکھتے لکھتے ہاتھ شل ہیں اور الفاظ کے قحط کا سامنا ہے؛ تاہم آج ان سبھی سے فرار حاصل کرنے کے لیے وہ ناسٹیلجک کیفیات شیئر کرنے جارہا ہوں جن سے شاید ہی کوئی ذی روح بچ سکا ہو۔ البتہ اظہار و بیان اپنا اپنا اور جدا ہوسکتا ہے۔
شہرِ خموشاں میں میرا آنا جانا بہت پرانا ہے۔ جب سے ماں باپ جیسی عزیز از جان ہستیاں یہاں آن بسی ہیں تو یہ آنا جانا اب روزمرّہ کے معمول کا حصہ بن چکا ہے۔ بالخصوص عیدین پر شہرِ خموشاں میں آمدورفت کی رونق بڑھانے والوں کو گھر لوٹتے وقت اپنے قدم من من کے اس لیے محسوس ہوتے ہیں کہ جن کے دم قدم سے عیدوں اور شبراتوں کی رونق ہوا کرتی تھی وہ تو رزقِ خاک بن چکے ہیں۔ ان کے بغیر بھرے گھر بھی کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں۔ کیسی عیدیں کیسی شبراتیں۔ تین روز قبل عیدالاضحی کی نماز کے بعد سیدھا شہر خموشاں پہنچا تو واپسی محال تھی۔ یوں لگتا کہ قبر نے قدم جکڑ لیے ہیں۔ کیفیت ایسی کہ اظہار کرنا بھی چاہوں تو بیان ممکن نہیں۔ بس ایک خیال ہلکان کیے جاتا تھا کہ ان کو یہاں چھوڑ کر کیسی اور کہاں کی عید۔
زندگی بھی کیا گورکھ دھندا ہے‘ روح کا جسم سے رشتہ ٹوٹتے ہی سارا منظر نامہ یکسر تبدیل ہو جاتا ہے۔ کوئی نام تک لینا گوارا نہیں کرتا‘ نام کے بجائے میت اور جنازہ کہہ کر پکارا جاتا ہے‘ عزیز و اقارب قبر کی تیاری اور کفن کا انتظام اس قدر مستعدی سے کرتے نظر آتے ہیں کہ کسی طرح اس میت کو جلد از جلد اس کی آخری آرام گاہ تک پہنچا دیں۔ جن کے بغیر ایک پل نہیں گزرتا تھا وہ بھی بار بار جنازے کا ٹائم پوچھتے نظر آتے ہیں۔ شہرِ خموشاں میں باقاعدہ حاضری کے دوران اس امید پر قبروں کے درمیان بھٹکتا ہوں کہ کل جب میں اس شہرِ خموشاں میں آ بسوں گا تو شاہ میر اور ولید بھی اسی طرح شہرِ خموشاں میں آ کر حالات و مسائل شیئر کیا کریں گے۔ زندگی اسی کا نام ہے اور اس بے معنی اور فانی زندگی کی بس اتنی ہی اوقات ہے کہ کبھی روتے روتے ہنس پڑتا ہوں تو کبھی اپنے ہنسنے پہ رونا آتا ہے۔ ایسے سفر پر گامزن جس میں نہ مرضی شامل‘ نہ پسند و ناپسند کا خیال رکھا گیا‘ نہ حالات پر اختیار نہ وسائل پر۔
عمر کا ایک حصہ وہ تھا جب اپنی موت نہیں بس اپنوں کی موت سے ڈر لگتا تھا۔ اب یہ ڈر دہرا ہو چکا ہے‘ اب اپنی موت کا تصور بھی اس قدر جاں لیوا ہے کہ جان سے پیارے پسماندگان کی فکر ہلکان کیے رکھتی ہے کہ ان کا کیا ہوگا‘ میری موت کا دکھ کیسے برداشت کر پائیں گے اور بعد ازاں حالاتِ پریشاں سے کیسے نبرد آزما ہو سکیں گے کیونکہ یہاں حال کا کچھ پتا ہے نہ مستقبل کی کوئی ضمانت‘ اس کے برعکس کسی فلاحی ریاست میں پیدا ہونے والوں کے دکھ ہم سے یکسر مختلف ہوتے ہیں‘ انہیں ایسے وسوسوں اور اندیشوں کا سامنا نہیں ہوتا کہ ان کے بعد ان کے پسماندگان حکمرانوں کی گورننس کے متحمل کیسے ہو سکیں گے۔ ایسے میں یہ وسوسے اور اندیشے دن کا چین برباد کرنے سے لے کر رات کی نیند لوٹنے کے علاوہ مرنے کا خوف دہرا کر ڈالتے ہیں۔ جب بھی یہاں آتا ہوں ایک قبر کے کتبہ پر لکھا ہوا یہ فقرہ ”میں اہم تھا‘یہی وہم تھا‘‘ ہمیشہ ہی منہ چڑاتا ہے گویا کہہ رہا ہو کہ تم کس مغالطے میں ہو‘ زندگی کے جھمیلوں سے گہماگہمی تک‘ قصرِاقتدار سے لے کر محفلِ یاراں تک‘ سماجی میل جول سے لے کر ستائشِ باہمی تک‘ شب و روز سے لے کر ماہ و سال تک‘ سب مغالطے ہی مغالطے ہیں۔ تمہاری آنیاں جانیاں ہوں یا خاطر داریاں‘ عہد و پیماں ہوں یا وفا داریاں‘ وضع داریاں ہوں یا دل داریاں‘ ان سبھی کی اوقات کیا ہے‘ پانی کا بلبلہ اور ہوا کا جھونکا‘ موت تمہاری ساری منصوبہ بندیوں اور مضبوط ارادوں سے کہیں زیادہ پائیدار ہے۔ اپنے آپ کو بہت مصروف اور ناگزیر سمجھتے ہو‘ اپنے ارد گرد لوگوں کا ہجوم پا کر کیا سمجھتے ہو‘ کیا یہ سب ایسے ہی چلتا رہے گا۔ ہرگز نہیں! ناسٹیلجک کیفیت میں ابنِ انشا کے چند منتخب اشعار پیشِ خدمت ہیں۔ قارئین! پوری نظم پڑھ کر اپنے اپنے ناسٹیلجیا کو تڑکا لگا سکتے ہیں۔
اب عمر کی نقدی ختم ہوئی
اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے
ہے کوئی جو ساہو کار بنے؟
ہے کوئی جو دیون ہار بنے؟
کچھ سال‘ مہینے‘ دن لوگو!
پر سود بیاج کے بن لوگو!
ہاں‘ اپنی جاں کے خزانے سے
ہاں‘ عمر کے توشہ خانے سے
کیا کوئی بھی ساہو کار نہیں؟
کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں؟
ہم مانگتے نہیں ہزار برس
دس پانچ برس‘ دو چار برس
ہاں‘ سود بیاج بھی دے لیں گے
ہاں اور خراج بھی دے لیں گے
آسان بنے‘ دشوار بنے
پر کوئی تو دیون ہار بنے

Leave a Reply

Your email address will not be published.