مزید تاخیر‘ مزید خرابی

ملکتِ خداداد کرۂ ارض پر ایسا منفرد ترین خطہ ہوگا جس کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ جہاں ایوان سے زندان اور زندان سے ایوان کا سفر کوئی معنی ہی نہیں رکھتا۔ پل بھر میں نصیب بنتے اور بگڑتے ہیں۔ ملک بھر میں کہیں تماشے تو کہیں سہم کا عالم ہے کہ اقتدار کی چھینا جھپٹی کے نتیجے میں ملک کو سچ مچ کے نازک دور اور موڑ سے دوچار کرنے والے کہیں ملک و قوم کواس اندھے کنویں میں نہ دھکیل ڈالیں جہاں سے نکلنا تو درکنار‘ آواز بھی باہر نہیں آتی۔ حکمرانی کے لیے ملک درکار ہوتا ہے‘ ریاست کے اداروں اور تنظیمی ڈھانچے کو ڈھانچے میں تبدیل کرنے کے بعد کیسی حکومت اور کہا ں کی حکمرانی؟ ملک پر سیاست کو ترجیح دینے والے ہوں یا سالمیت اور استحکام کو شوقِ حکمرانی کی بھینٹ چڑھانے والے۔ ان سبھی نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو بھیڑ چال کی شکار قوم نما رعایا کے ایسے ہوش ٹھکانے آئیں گے کہ شاید کہیں ٹھکانہ بھی نہ ملے۔ زمینی حقائق کے برعکس گمراہ کن بیانیوں اور جھانسوں سے عوام کو بیوقوف بنا کر مینڈیٹ تو ہتھیایا جا سکتا ہے لیکن ناقابلِ تردید ان تلخ حقیقتوں کو ہرگز نہیں جھٹلایا جا سکتا جنہیں سمجھنے کی حس خدا جانے کہاں کھو گئی ہے۔
کہیں گورننس بانجھ ہے تو کہیں سسٹم اپاہج دکھائی دیتا ہے۔ کہیں قول و فعل کی حرمت پامال ہے تو کہیں عمل تضادات کا شکار ہے۔ نیت سے لے کر معیشت تک‘ تجاوزات سے لے کر احتساب تک سب تماشا دکھائی دیتا ہے۔ نہ منصب کا لحاظ ہے نہ آئین کی پاسداری۔ قانون کی حکمرانی ہے نہ کہیں اخلاقی و سماجی قدروں کا پاس۔ احترامِ آدمیت ہے نہ تحمل و بردباری۔ احساسِ ذمہ داری‘ رواداری اور وضع داری جیسی صفات تو کہیں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتیں۔ سیاسی اختلافات ذاتی دشمنیوں میں بدل کررہ گئے ہیں۔ عناد‘ بغض اور کینہ دلوں میں چھپائے چہروں پر نمائشی اور مصنوعی مسکراہٹیں سجائے کس قدر ڈھٹائی سے منافقانہ معانقے کرتے پھرتے ہیں۔ روزِ اول سے لمحۂ موجود تک حکمرانوں کی قابلیت معمہ ہے اور یہ معمہ حل ہونے کے امکانات معدوم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ بے کس عوام کتنی دہائیوں سے ان کی طرزِ حکمرانی کے اثرات سے مسلسل بدحال ہوتے چلے جارہے ہیں۔ برسہا برس بیت گئے‘ کتنے ہی حکمران بدل گئے لیکن عوام کے نصیب بدلتے نظر نہیں آتے۔
بدقسمتی دیکھیے کہ ہمارے ہاں قدرت نے جسے بھی گورننس کی نعمت عطا کی اُس نے اس عطا کو اپنی استادی‘ مہارت اور اہلیت سے منسوب کیا۔ گویا یہ قدرت کی عطا نہیں بلکہ خود ان کی کسی ادا کا چمتکار تھا۔ برسر اقتدار آنے کے بعد یہ سبھی ایک دوسرے کے ریکارڈ‘ ریکارڈ مدت میں توڑنے کی کوشش میں اپنی آنکھوں میں اچھے خاصے شہتیر لیے پھرنے کے باوجود دوسروں کی آنکھ کے تنکے کو لے کر آسمان سر پہ اُٹھا لیتے ہیں۔ یہی ان کی جمہوریت ہے اور یہی ان کی جمہوریت کا حسن۔ مشہور فلم ”زرقا‘‘ کا شہرہ آفاق گیت ”رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے‘‘ تو سبھی نے سن رکھا ہو گا لیکن مملکتِ خداداد میں جمہوریت کے حسن کا رقص زور و شور سے جاری تو ہے لیکن یہ جمہوری رقص گلے میں طوق اور پائوں میں بیڑیاں پہن کر کرنے والے خدا جانے کس بوتے پر نازاں اور شاداں ہیں اور یہ سبھی کون سا ایسا کارنامہ انجام دے چکے ہیں‘ کون سی ایسی قومی خدمت کے جھنڈے گاڑ چکے ہیں کہ غول در غول ایک بار پھر اقتدار اور وسائل پر حملہ آور ہیں۔ متحدہ اپوزیشن ہو یا برسراقتدار پارٹی‘ کس کے پلے کیا ہے؟ اور ان سبھی نے عوام کے پلے چھوڑا ہی کیا ہے؟ ان کے منہ کو لگا اقتدار کا چسکا چھٹتا ہی نہیں۔ یہ سبھی کس منہ سے‘ کس ڈھٹائی سے اور کس دیدہ دلیری سے اپنے اپنے گمراہ کن بیانیوں کے ساتھ عوام کو بے وقوف بنانے کے علاوہ غیرتِ قومی اور ملکی استحکام کو بھی دائو پہ لگا چکے ہیں۔
سیاست کے کیسے کیسے شہزادے جمہوریت کو رسوا کرکے اس طرح شاداں اور نازاں ہیں کہ سنبھالے ہی نہیں جا رہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک عوام کے درد میں بے حال ہونے والے کو دیکھ کر یہ سوچ بڑھتی ہی چلی جاتی ہے کہ عوام کے مسائل اور تکلیفوں کے ازالہ کے لیے ڈھیروں رہنما دن رات تو ایک کیے ہوئے ہیں‘ عوام کو اور کیا چاہیے؟ ایسے لیڈر کہاں ملتے ہیں کہ رات کو سونے جاؤ تو یہ سٹیج لگائے ہوتے ہیں‘ صبح اٹھو تو اسی سٹیج پر موجود اپنے اوصاف اور مخالفین میں پائے جانے والی خامیوں کے بارے میںعوام کو مطلع کرتے نظر آتے ہیں۔ آج کل یہ سبھی رہنما شفٹوں میں دستیاب ہیں۔ ملک میں آئینی بحران ہو یا انتظامی‘ کسی کو رتی برابر پروا نہیں۔ اپنے بیانیوں سے جو اخلاقی بحران یہ پیدا کر چکے ہیں اسے دیکھ کر بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ آئینی و انتظامی بحران مزید معاشی تباہیوں کے ساتھ روز ایک نئے بحران کا باعث ہے۔ ان سبھی کی قیمت ہو یا خمیازے کا بھگتان‘ قربانی کا بکرا ہمیشہ کی طرح عوام کو ہی بننا پڑے گا۔ یہ جمہوری چیمپئن کہیں خود دھمال ڈالتے نظر آتے ہیں تو کہیں جمہوریت کو دھمال ڈلوا رہے ہیں۔ تعجب ہے کہ عوام اس منظر نامے سے عبرت پکڑنے کے بجائے مزید سردھنتے اور دادِ عیش دیتے نظر آتے ہیں۔
ملک کے سب سے بڑے صوبے میں گورننس کا عالم یہ ہے کہ کابینہ ہے تو قلمدان نہیں۔ اسمبلی کا اجلاس بلانے کو ایوان نہیں۔ اپنے اپنے سپیکروں کے ساتھ حکومت اور حزبِ اختلاف اپنے اپنے ایوان ایسے چلا رہی ہیں کہ اب کچھ بھی چلتا نظر نہیں آتا۔ خدا جانے پنجاب اسمبلی کے ان الگ الگ اجلاسوں کی قانونی اور آئینی حیثیت کیا ہے۔ اراکین کی مراعات اور تنخواہوں کے علاوہ ایوانِ اقبال میں ہونے والے اجلاس کے بھاری اخراجات کا معمہ کیسے حل ہوگا؟ پنجاب اسمبلی کا بٹوارہ کیا رنگ لاتا ہے‘ اس کا اندازہ لگانے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت ہرگز نہیں ہے۔ اخلاقیات سے لے کر تحمل‘ برداشت اور رواداری سمیت آئینی و قانونی تقاضے تارتار ہو چکے ہیں۔ جن کے منہ کو اقتدار کا مزہ لگ گیا ہو پھر انہیں اور کچھ نہیں بھاتا۔ یہ وہ مچھلیاں ہیں جو اقتدار کے تالاب سے نکالے جانے کے تصور سے ہی تڑپنے اور گھبرانے لگ جاتی ہیں اور اسی گھبراہٹ میں وہ کیسے کیسے اوچھے ہتھکنڈوں کو بھی جمہوریت کا حسن سمجھتی ہیں۔
پون صدی کی بربادیوں اور من مانیوں کا کہیں تو اختتام ہونا چاہیے۔ جمہوریت کا حسن بے نقاب ہونے کے باوجود خدا جانے عوام کیوں اس حسن کے گرویدہ اور رقصاں ہیں۔ ایک دوسرے کی کردار کشی کرتے یہ سبھی سیاسی رہنما آزمائے ہوئے اور عوام ان سے بار بار ڈسے جا چکے ہیں۔ عوام کو مزید تجربات اور دھوکوں کا شکار ہونے کے بجائے اس سیاسی اکھاڑے میں خود اتر جانا چاہیے۔ جس دن عوام اکھاڑے میں اتر آئے‘ سارے درشنی پہلوان سرپٹ بھاگتے نظر آئیں گے۔ عوام کو اس مقدمے میں بھی فریق بن کر اس جمہوریت سے پناہ مانگ لینی چاہیے۔ جمہوریت کے حسن کے سحر سے باہر نکل کر ان بھیانک حقائق اور اس بہروپ کی حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے‘ ان جمہوری چیمپئنز کا ایسا بائیکاٹ جو انہیں گھروں میں محصور کرکے رکھ دے۔ یہ عوام سے ووٹ مانگنے سے پناہ مانگتے پھریں اور جمہوریت کا نام بھی نہ لیں۔ تب کہیں جاکر ان کی بربادیوں کا اختتام ہوسکتا ہے ورنہ یہ جمہوری حسن ایسے اندھیرے پھیلائے گا کہ روشنی بھی پناہ مانگتی پھرے گی۔ سخت فیصلے موجودہ حکومت کو نہیں‘ مقتدر حلقوں اور فیصلہ سازوں کو ہی لینے ہوں گے۔ زندگی کے لیے روز روز مرنے کے بجائے ایک بار مر کر زندہ ہونا پڑے گا۔ زندگی کے لیے مرنا پڑے گا۔ یہ فیصلہ جتنی جلدی ہو اتنا ہی بہتر ہے۔ مزید تاخیر مزید خرابی لائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.