جینے کو اور کیا چاہیے

کالم کی اشاعت تک بفضلِ تعالیٰ انجیو پلاسٹی کے مرحلے سے گزر چکا ہوں گا۔ دو دن جس تکلیف اور کرب میں گزرے‘ الامان و الحفیظ‘ جس تن لاگے سو تن جانے۔ انجیو پلاسٹی سے چند گھنٹے پہلے خدا جانے دل کو کیسے قرار اور کچھ سکون ملا ہے۔ اللہ کے کرم کے بعد کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر عامر بندیشہ کی مسیحائی کی تاثیر ہے یا پھر سخت مقابلے کے بعد دل نے تازہ دم ہونے کے لیے اپنی حشرسامانیاں کچھ دیر کے لیے سمیٹ لی ہیں۔ ان لمحات کو غنیمت جانتے ہوئے سوچا کہ کیوں نہ اپنی کیفیت اور دل کی یہ واردات قارئین سے شیئر کر لی جائے۔
جیسے تیسے رات گزری تو صبح اٹھتے ہی کارڈیالوجسٹ کے سامنے بیٹھا تھا۔ انہوں نے اپنے روایتی جملے چست کیے پھر معائنہ کرنے کے بعد انتہائی سنجیدگی سے بولے: یہ اپنے ساتھ کیا کر رہے ہو؟اس بھول میں نہ رہنا کہ ہم تمہارے دل کا حال نہیں جانتے‘ ہم تمہارے دل کا وہ حال بھی جانتے ہیں جو تم خود بھی نہیں جانتے‘ اب مزید غفلت اور کوتاہی کی گنجائش نہیں۔ درجن بھر تشخیصی ٹیسٹ لکھنے کے بعد انہوں نے اپنے معاون سے کہا کہ یہ ٹیسٹ فوری طور پر کرائو۔ رپورٹ آنے تک صبح شام مٹھی بھر ادویات اور پیٹ میں انجکشن تجویز کر ڈالا۔ خیر! مرتا کیا نہ کرتا۔ ادویات شروع کرنے کے باوجود فشارِ خون کسی صورت سرنگوں ہونے پر آمادہ نہ تھا۔ بارہ گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے بعد بھی یہی صورتِ حال رہی تو ڈاکٹر صاحب کو رات گئے فون کرکے جگا ڈالا۔ اُنہوں نے کچھ ادویات کی تبدیلی کی اور کچھ کو دہرانے کا مشورہ دینے کے ساتھ اگلی صبح دوبارہ ہسپتال طلب کر لیا۔ اگلے روز ہسپتال پہنچا تو تشخیصی رپورٹس میرے معالج اپنی ٹیبل پر رکھے بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی بولے: شکر کرو‘ علاج کے لیے تم خود چل کر آ رہے ہو‘ اگر مزید کوتاہی کی تو شاید تمہیں اٹھا کر ہسپتال لانا پڑے۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ فقرہ شاید مجھے حالات کی سنگینی کا احساس دلانے کے ساتھ انجیو پلاسٹی کرانے پر فوری آمادہ کرنے کے لیے بولا تھا۔ میں نے بھی فوری طور پر ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا کہ آپ یارِ من ہونے کے ساتھ ساتھ میرے مسیحا بھی ہیں‘ اب جو مزاجِ یار میںآئے وہ کرڈالیں؛ تاہم چند گھنٹوں کی مہلت کو غنیمت جان کر دردِ دل کو کالم سے الجھانے کا فیصلہ برا نہیں۔
ہم ساری عمر اسی مغالطے میں رہے کہ کون دِلاں دیاں جانے‘ لیکن ڈاکٹر صاحب نے تو سارے مغالطے ہی دور کر ڈالے۔ انہوں نے میرے دل کے بارے میں جو تحفظات اور پیش گوئیاںگزشتہ برس کی تھیں‘ ان سبھی پر تشویشی رپورٹوں نے نہ صرف تصدیق کی مہر ثبت کر دی تھی بلکہ مجھے بلا چون و چرا یہ بھی تسلیم کرنا پڑ گیا کہ جس شخص کو ہم بس ایک کارڈیالوجسٹ سمجھتے رہے‘ وہ ہمارے دل اور اندرونی معاملات کے بارے میں بھی وہ سب جانتا ہے جس کا ہمیںگمان بھی نہیںتھا۔ دل بھلے سمندروں ڈُونگھا ہی کیوں نہ ہو لیکن جاننے والوں کے علم سے گہرا ہرگز نہیں؛ تاہم ان حالات کا ایک قابلِ ذکر پہلو اس لیے بھی قابلِ فخرہے کہ نیک تمنائوں کا اظہار کرنے والے یارانِ من میں شامل کس کس کا نام لوں۔ اگر نام شیئر کرنا شروع کروں تو نہ صرف یہ کالم ان دوست احباب کے ناموں کی نذر ہو جائے گا بلکہ ایک مزید کالم بھی درکار ہوگا۔ ان سبھی کا اصرار تھا کہ انجیو پلاسٹی کے لیے ہم ساتھ چلیں گے۔ اکثر نے تو مقررہ وقت پر ہسپتال میں ‘جی آیاں نوں‘ کہنے کی ڈیوٹی بھی خود ہی سنبھال لی۔
مربی حسن نثار نے تو ابھی کچھ دیر پہلے فون کرکے تاکید کی ہے کہ یاسین خان کو بتا دو کہ مجھے ہسپتال کس وقت لے کر آنا ہے۔ ایک افسر دوست کا اصرار تھا کہ دس تاریخ تک صبر کرلو‘ بین الاقوامی شہرت کے حامل ایک کارڈیالوجسٹ دوست پاکستان آرہے ہیں‘ تمہارے دل کا وہ بہتر علاج کر سکتے ہیں۔ اسی طرح راجہ منصور بولے: ڈاکٹر بندیشہ ہمارا مشترکہ دوست ہے‘ میں ساتھ چلوں گا۔ ہم سب کے ڈارلنگ‘ لیجنڈ خالد عباس ڈار ڈاکٹر کی ہدایت پر جاری سات روزہ بیڈ ریسٹ ختم کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔ شہرہ آفاق شاعر منصور آفاق کا اصرار تھا کہ ہسپتال جانے سے پہلے صدقہ ضرور دینا۔بے شمار دوست دعائیں دینے اور بلائیں لینے کے علاوہ اس بات پر خفا ہیں کہ ہماری ڈیوٹی کیوں نہیں لگائی گئی؟ از خود کوآرڈی نیشن پر مامور زاہد چودھری اپنے سبھی ریکارڈ توڑتے ہوئے تمام ذمہ داریاں بروقت و بخوبی نبھا رہے ہیں۔ نایاب حیدر‘نایاب ہونے کے باوجودکثرت سے پائے جارہے ہیں۔ دوستوں کے درمیان رابطے اور پل کا کردار ادا کرنے والے عثمان بھٹہ اور کرنل ثاقب بھی فل ٹائم فکر مند ہیں۔ سبھی احباب ایک سے بڑھ کر ایک اور نعمت سے ہرگز کم نہیں۔ نجانے کتنے دوستوں کے نام لکھنے سے رہ گئے ہیں۔ میں ان سبھی دوستوں کی محبتوں کا بھی قرض دار ہوں جن کا نام شاملِ کالم نہیں ہوسکا۔
تکلیف اور کرب کے ان لمحات میں دیگر کئی دوست بھی اپنی محبتیں لٹانے کے لیے ہمہ وقت موجود ہیں۔ ماں جائے بہن بھائی بھی قدرت کا کس قدر انمول تحفہ ہیں کہ سبھی اپنے کام کاج اور معمولات ایک طرف رکھ کر دلجوئی اور دعائے صحت میں مصروف ہیں۔ مکہ مکرمہ میں مقیم‘ عزیز از جان بیٹی ضحی اور داماد بلال بیت اللہ میں دستِ دعا دراز کیے ہوئے ہیں۔ میری طاقت‘ میری کمزوری‘ میری شریک حیات‘ ربع صدی سے میرے ہم قدم اورشانہ بشانہ ہے۔ میں کتنا خوش قسمت اور ربِ کریم کی بے پناہ نعمتوں سے مالا مال ہوں۔ جینے کو اور کیا چاہیے؟ اللہ ان سب چاہنے والوں اور جان لٹانے والوںکو اپنے رحم و کرم کے سائے میں رکھے۔ یہ سبھی‘ مجھ خاکسار پر جان لٹانے والے ہوں یا بے پناہ چاہنے والے‘ ایک دوسرے کا عکس اور ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔
اس خوش بختی اور بے پناہ نعمتوں سے مالا مال ہونے کے باوجود ایک ناسٹلجیا خون میں سرایت کر چکا ہے جو قطرہ قطرہ‘ لمحہ لمحہ‘ دھیرے دھیرے دل کا کام تما م کیے ہوئے ہے۔ عمر کا ایک حصہ وہ تھا جب اپنی موت نہیں بلکہ اپنوں کی موت سے ڈر لگتا تھا۔ اب یہ ڈر دہرا ہو چکا ہے‘ اب اپنی موت کا تصور بھی اس قدر جاں لیوا ہے کہ جان سے پیارے پسماندگان کی فکر ہلکان کیے رکھتی ہے کہ ان کا کیا ہوگا‘ میری موت کا دکھ کیسے برداشت کر پائیں گے اور بعد ازاں حالاتِ پریشاں سے کیسے نبرد آزما ہو پائیں گے کیونکہ یہاں حال کا کچھ پتا ہے نہ مستقبل کی کوئی ضمانت۔ گاہے سوچتا ہوں کہ ہماری سوچوں کے برعکس کسی فلاحی ریاست میں پیدا ہونے والوں کے دکھ یکسر مختلف ہوتے ہوں گے‘ انہیں ایسے وسوسوں اور اندیشوں کا سامنا نہیں ہوتا ہو گا کہ ان کے بعد ان کے پسماندگان حکمرانوں کی گورننس کے متحمل کیسے ہو سکیں گے۔ ایسے میں یہ اندیشے دن کا چین برباد کرنے اور رات کی نیند لُوٹنے کے علاوہ مرنے کا خوف بھی دُہرا کر ڈالتے ہیں۔
نیند کو آدھی موت کہا جاتا ہے اور رات کو جب بھی اس آدھی موت کے لیے بستر پر جاتا ہوں تو ماں باپ جیسی عزیز ازجان ہستیوں سے لے کر دوست احباب اور عزیز و اقارب کے بچھڑنے کا غم اور بے پناہ چاہنے اور اردگرد پائے جانے والوں سے جدائی کا دھڑکا آدھی موت سے تادیر دور کیے رکھتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.