روسی صدر کو لڑائی کا چیلنچ دینے کے بعد ایلون مسک کا نام تبدیل

امریکی کمپنی ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے روسی صدر پیوٹن کو لڑائی کا چیلنچ دینے کے ایک دن بعد ٹوئٹر پر اپنا نام تبدیل کرلیا۔

ایلون مسک نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر چیچنیا کے رہنما رمضان قادروف کی ٹیلی گراف پوسٹ کا اسکرین شاٹ شیئر کیا جس میں اُنہوں نے کہا کہ ’روسی صدر کو لڑائی میں شکست دینے کے لیے ایلون مسک کو بہت زیادہ تربیت کی ضرورت ہوگی۔‘

اُنہوں نے ایلونا مسک کہہ کر طنزیہ وار کیا اور ساتھ ہی اُنہیں تین چیچن اداروں میں تربیت کی پیشکش کی۔

اس کے جواب میں ایلون مسک نے اپنا ٹوئٹر نام ایلون مسک سے تبدیل کرکے ایلونا مسک رکھ دیا۔

ایلون مسک نے اپنے ٹوئٹ میں رمضان قادروف کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’پیشکش کے لیے آپ کا شکریہ لیکن ایسی بہترین تربیت مجھے بہت زیادہ فائدہ دے گی۔‘

اُنہوں نے کہا کہ ’اگر روسی صدر لڑنے سے ڈرتے ہیں تو میں صرف اپنا بائیں ہاتھ استعمال کرنے پر راضی ہو جاؤں گا۔‘

واضح رہے کہ ایلون مسک نے ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ میں اس پیغام کے ذریعے ولادیمیر پیوٹن کو دو بدو لڑائی کا چیلنج دیتا ہوں اور بازی یوکرین کی ہوگی۔ کیا پیوٹن اس چیلنج کو قبول کرتے ہیں؟

ایلون مسک کی پوسٹ پر ایک ٹویٹر صارف نے کمنٹس میں لکھا تھا کہ روسی صدر کوئی بھی لڑائی آسانی سے جیت سکتے ہیں جس پر مسک نے جواب دیا تھا کہ پیوٹن اتنی آسانی سے جب مغرب کو نیچا دکھا سکتے ہیں تو یہ چیلنج قبول کرنا بھی ان کیلئے کوئی بڑی بات نہیں ہوگی لیکن پھر بھی وہ یہ چیلنج قبول نہیں کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.