حساب تو برابر کر ڈالا

حساب تو برابر کر ڈالا

یہ سیاست اور اقتدار بھی کیا چیز ہے۔ جس نے بھی ایک مرتبہ اختیار اور طاقت کا مزہ چکھ لیا وہ ساری عمر کوئے اقتدار کے طواف میں ہی گزار دیتا ہے۔ اقتدار سے باہر ہوتا ہے تو برسر اقتدار آنے کے لیے ہر پل بے چین اور ہمہ وقت کوشاں رہتا ہے اور جب اقتدار حاصل کرلیتا ہے تو طاقت اور اختیارات کا نشہ یوں سر کو چڑھتا ہے کہ نہ کوئی وعدہ یاد رہتا ہے اور نہ ہی وہ دعوے جو حصول اقتدار کے لیے صبح و شام کیا کرتے تھے۔ سیاسی سرکس نئے آئٹمز کے ساتھ کھڑکی توڑ رش لے رہا ہے۔ ایسے ایسے بازی گر اپنے اپنے آئٹم کے ساتھ جلوہ افروز ہو رہے ہیں کہ دور کی کوڑی لانے والوں سے لے کر سیاسی پنڈتوں سمیت سبھی جغادری بھی انگشت بدنداں ہیں کہ کون کس کا حلیف ہے اور کس کا حریف۔ حلیفوں کے حریفوں سے رابطے ہیں تو حریف حلیفوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ شریک اقتدار اتحادی فیصلہ کن اہمیت کے حامل بنتے چلے جا رہے ہیں۔ ان کا وزن کس کو بے وزن کرتا ہے اور وہ کس پلڑے میں اپنا وزن ڈالتے ہیں یہ صورت حال معمہ بنتی چلی جا رہی ہے۔ وزارت عظمیٰ سے لے کر وزارت اعلیٰ اور اہم وزارتوں کی بندر بانٹ تک کے نت نئے فارمولے بریکنگ نیوز بن کر صبح شام سیاسی سرکس کی رونق بڑھائے چلے جا رہے ہیں۔عوام تو سیاسی سرکس کے پرانے تماشائی ہیں۔ یہ سبھی سیاسی بازی گر اپنی اپنی باری پر اپنا اپنا آئٹم پیش کر کے آتے جاتے رہیں گے۔ عوام ان کے کرتبوں پر تالیاں بجاتے رہیں گے۔ ملک و قوم کی دولت اور وسائل کی بندر بانٹ سے لے کر اقتدار کے بٹوارے تک‘ نیت سے لے کر معیشت تک‘ گورننس سے لے کر میرٹ تک‘ امن و امان سے لے کر شہری سہولیات تک‘ ان کی نیت اور ارادوں سے لے کر فیصلوں اور اقدامات تک سبھی کے بھید کھل چکے ہیں۔ یکے بعد دیگرے اقتدار کی باریاں لگانے والے ہوں یا ہر دور میں شریکِ اقتدار رہنے کا ہنر جاننے والے‘ سبھی کے بارے میں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ کسی نے بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا‘ جس میں ان کی اپنی غرض اور مفاد غالب نہ رہا ہو۔ ملک کے طول و عرض میں کوئی ایسا حکمران آج تک نہیں آیا جس نے قانون‘ ضابطے‘ میرٹ اور گورننس کو اپنا تابع فرمان نہیں بنایا۔ اپنے کاروبار اور مالی ذخائر میں ہوشربا اضافے سے لے کر اقتدار کے حصول اور طول تک ہر جائز و ناجائز حد تک جانے والے حکمرانوں نے کب اور کون سا گُل نہیں کھلایا؟ اس کی تفصیل میں اگر جائیں تو ممکن ہے پوری کتاب لکھنا پڑ جائے۔میثاقِ جمہوریت کا ایک اور دور دہرایا جا رہا ہے۔ اقتدار سے دوری کے علاوہ طاقت اور اختیارات سے محرومی نے ان سب کو ایک بار پھر اکٹھا کر ڈالا ہے۔ بدترین جمہوریت سے ملک و قوم کو دوچار کرنے والوں کو خدا جانے کون سی جمہوریت کا بخار چڑھ گیا ہے کہ میثاق جمہوریت کا ایکشن ری پلے چلانے کے لیے سکرپٹ اور کردار سازی بھی زوروں پر ہے۔ عدالتوں میں وہیل چیئر پر بیٹھ کر پیش ہونے والے بیش قیمت پوشاکیں زیب تک کیے ہشاش بشاش‘ سوٹڈ بوٹڈ ایک دوسرے کی دعوتوں میں ان گنت پکوانوں سے لطف اندوز ہو کر قوم کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ سرکار کے آخری دن آ چکے ہیںاور عن قریب یہ سبھی اقتدار کے بٹوارے کے ساتھ عوام کو اسی حکمرانی سے دوچار کرنے والے ہیں جس نے اس خطے میں بسنے والوں کو قوم کے بجائے رعایا ہی بنائے رکھا۔ماضی کے چند ادوار کا جائزہ لیا جائے تو بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ کئی دہائیوں تک یکے بعد دیگرے اقتدار کی باریاں لگا کر بربادیوںکے انبار لگانے والوں پر جب بھی کڑا وقت آیا‘ انہوں نے اپنے سبھی اختلافات‘ عناد اور بغض سمیت ان دشمنیوں کو بھی وقتی طور پر سلا ڈالا جو وہ سالہا سال پالتے رہے۔ ایک دوسرے کو سکیورٹی رسک کہنے والے‘ چور ڈاکو اور لٹیرا سمیت نہ جانے کون کون سے القابات سے نوازنے والے بے نظیر بھٹو کے قتل کا ذمہ دار قرار دے کر ایک سیاسی جماعت پر قاتل لیگ کا الزام لگانے والے ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹنے اور مقام عبرت بنانے کے دعوے کرنے والے باہم شیروشکر نظر آتے ہیں۔ اقتدار سے محرومی اور طاقت و اختیارات کے نشے کی علت ہی انہیں مجبور اور یکجاکرنے کا باعث بنتی رہی ہے۔ ایک بار پھر یہ میثاقِ جمہوریت کے نام پر میثاقِ مصیبت کرنے جا رہے ہیں۔ یہ میثاق اس مصیبت سے منسوب ہے جو ان سبھی پر گزشتہ چند سالوں سے مکافاتِ عمل کی صورت میں نازل ہوئی تھی۔سہولت کاری سمیت مکاری اور عیاری کے علاوہ مصلحتوں اور سیاسی تعاون کے عوض صلہ پانے والے یہ سبھی نیب یاترا کے باوجود ایک بار پھر قوم کو کھلا دھوکا دیتے ہوئے نیا سیاسی سرکس لگائے ہوئے ہیں۔ ملک و قوم سے کھلواڑ کرنے کے علاوہ سرکاری وسائل پر بندر بانٹ اور بندہ پروری کرنے والے ایک بار پھر کوئے اقتدار کا طواف کر رہے ہیں کہ کب انہیں موقع ملے اور وہ نقب لگانے میں کامیاب ہو جائیں۔ یہ کیسی لوٹ مار تھی؟ یہ کیسا احتساب تھا؟ ملکی خزانہ بھی صاف ہے اور ان سبھی کے دامن اور ہاتھ بھی صاف ہیں۔ خدایا! یہ کون سا مکافاتِ عمل ہے کہ جزا اور سزا کا تصور ہی بدل کر رکھ دیا گیا ہے۔ مفادات کے جھنڈے تلے اکٹھے ہونے والے یہ سبھی ایک بار پھر ایکا کئے ہوئے اقتدار اور سرکاری وسائل پر حملہ آور ہونے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ ان پر تولنے والوں کو تو عوام بار بار تول چکے ہیں۔ یہ سبھی نیت اور ارادوں سے لے کر اعمال میں بھی ہر بار ہلکے ہی پائے گئے۔ کیسی کیسی جفائیں‘ کیسی کیسی بد عہدیاں اور بد اعمالیاں‘ کیسی کیسی خیانتیں اور کیسا کیسا بہروپ اس خطے کے عوام نے نہیں دیکھا۔ جب جب سنہری دور کی نوید سنائی گئی وہ ہر دور میں چمکیلا اندھیرا نکلا‘ جسے نجات دہندہ سمجھتے رہے پھر اس سے نجات کی دعائیں مانگنا پڑیں‘ جسے بے پناہ چاہا پھر اسی سے پناہ مانگتے رہے۔ کیا یہ سب ہی بچ گئے ہیں؟ اگر یہ سب بچ گئے اور کوئے اقتدار میں دوبارہ نقب لگانے میں کامیاب ہو گئے تو کچھ بھی نہیں بچے گا۔ نہ نظام رہے گا اور نہ نظام چلانے والے کیونکہ جس معاشرے میں سب کچھ چلتا ہے وہاں پھر کچھ نہیں چلتا۔اے پروردگارِ عالم‘ اس مملکتِ خداداد میں رہنے والوں پر رحم فرما۔ حکمرانی کے بد ترین ادوار کے باوجود یہ آج بھی اترائے اور معتبر بنے پھرتے ہیں۔ باری تعالیٰ تو الصبور بھی ہے‘ المقدم بھی اور المؤخر تو ہے ہی۔ اے رب العالمین! تو العدل بھی تو ہے‘ عدل اور بلا تاخیر عدل تجھی سے منسوب ہے۔ اس خطے میں بسنے والوں کو تیری اس صفت کی‘ تیرے عدل و انصاف کی جو آج ضرورت ہے وہ شاید پہلے کبھی نہیں رہی۔ حکمرانی کے نام پہ ملک و قوم کا جو حشر ہوتا چلا آ رہا ہے‘ اس سے برا اور کیا ہو سکتا ہے؟ ان کے ارادے تجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے۔ سرکاری وسائل پر کنبہ پروری اور مصاحبین کے اللے تللے آخر کب تک؟ گورننس کے نام پر یہ عوام کو کب تک زندہ درگور کرتے رہیں گے؟ عوام کے پاس تو اب کھونے کو بھی کچھ نہیں رہا۔ یہ سب اکٹھے ہو کر ایک بار پھر یلغار کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں اور عوام بے بس و لاچار بس! تجھ ہی سے آس لگائے بیٹھے ہیں۔ تیرے خزانے میں اور دینے میں کوئی کمی نہیں۔ تو ہی ان کا احتساب کر سکتا ہے کیونکہ زمینی احتساب کا حساب تو ان سبھی نے برابر کر ڈالا ہے۔ بے شک تو بہتر انصاف کرنے والا ہے اور آسمانی فیصلوں کے آگے زمینی عدالتیں اور وکالتیں نہیں چلتیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.