خود پسندی کیاہے ؟اور اس کا علاج کیسے مکمن ہیں

انگلش ڈکشنری کے مطابق خود پسندی کا مطلب اپنے آپ میں، خاص طور پر اپنے روپ میں غیر معمولی دلچسپی لینا اور خود سے متاثر ہونا ہے۔یہ اپنی اہمیت اور صلاحیتوں کے حد سے بڑھے ہوئے احساس اور اپنے آپ میں دلچسپی کا دوسرا نام ہے۔ خود پسندی کے کچھ پہلو ایسے ہیں جو کسی نہ کسی حد تک ہر انسان میں پائے جاتے ہیں، لیکن زیادہ تر معاملوں میں یہ ایک بیماری کی صورت میں سامنے آئی ہے جسے نارسیٹک پرسنیلٹی ڈس آرڈر ( این پی ڈی) کا نام دیا جاتا ہے۔میڈیکل سائنس کے مطابق اس سے مراد یہ خیال ہونا ہے کہ ’ آپ سب سے اچھے ہیں ‘۔ مذہبی نقطہ نظر سے ’ خود پسندی‘ نام ہے اپنے آپ کو بڑھانے چڑھانے کا، اپنے اعمال کو بڑا سمجھنے اور ان پر اعتماد کرنے کا اور ان اعمال کی نسبت اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق کی طرف نہ کر کے اپنے آپ کی طرف ان کی نسبت کرنے کا۔خود پسندی کے نقصانات:اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی کے نیک اعمال برباد ہو جاتے ہیں اور اس کے ہاتھ صرف مذمت ہی آتی ہے۔ امام ماوردی کا قول ہے کہ’ خود پسندی سے اخلاق حسنہ غائب ہو جاتے ہیں، خرابیاں اور برے اخلاق عام ہو جاتے ہیں اور تمام برائیاں خود پسند انسان کے اندر مجتمع ہونے لگتی ہیں جو اسے شرافت سے محروم کر دیتی ہیں‘۔خود پسندی کا علاج:علامہ ابن قدامہ کہتے ہیں :’ جان لو کہ خود پسندی کبر و تکبر کو دعوت دیتی ہے، اس لیے کہ خود پسندی سے کبر پیدا ہوتا ہے اور کبر کے نتیجے میں بے شمار آفتیں پیدا ہوتی ہیں، اگر یہ کبر مخلوق کے ساتھ ہو۔ اگر کبر خالق کے ساتھ ہو تو اطاعت پر خود نمائی اور خود پسندی کے نتیجے میں انسان اپنی عبادات کو بہت کچھ سمجھنے لگتا ہے، گویا وہ اپنی عبادتوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ پر احسان کر رہا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس عمل کی توفیق کی نعمت کو بھلا دیتا ہے اور اپنی خود نمائی کی آفات میں بھٹکنے لگتا ہے۔‘ابو حامد الغزالی کا قول ہے :’ خوشی، غرور اور زعم کا درجہ خود پسندی کے بعد کا ہے۔ تجربہ سے ثابت ہے کہ ہر وہ شخص جو اپنے تئیں عبادت کی خوشی اور زعم میں مبتلا ہو تو وہ لازمی طور پر خود پسند بھی ہوتا ہے، جبکہ بہتیرے ایسے خود پسند افراد ہیں جو خوشی اور زعم کے شکار نہیں ہیں۔ خود پسندی پیدا ہی اس وقت ہوتی ہے جب آدمی اپنے آپ کو بڑا تصور کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھول بیٹھے اور اسے کسی اجر و ثواب اور بدلے کی امید نہ ہو۔‘خود پسندی کے اسباب:علمائے کرام کے مطابق :’ خود پسندی کہ وجہ جہل محض ہے اور اس کا علاج اس جہالت کے مخالف کا علم حاصل کرنا ہے۔ اس کے علاوہ تقویٰ یعنی خدا خوفی میں کمی اس کا سبب ہے۔ خیر خواہی کی کمی ہونا اور نیت درست نہ رکھنا بھی خود پسندی میں مبتلا کرنے کا باعث ہے۔ کسی کی حد سے زیادہ تعریف کرنا ، جس کی وجہ سے وہ شخص شیطان کے فریب کا شکار ہو جائے۔ دنیا کے فتنے میں پڑ کر خواہشات کی پیروی کرنا ، کم سوچنا کیونکہ اگر انسان سوچے اور غوروفکر کرے تو اسے معلوم ہو گا کہ اس کو عطا کردہ ہر نعمت اللہ کی جانب سے ہے۔ نا شکری کی عادت کا شکار ہونا اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں غفلت کرنا۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published.