رحم دلی اور ہمدردی بھی صحت کے لیے مفید

دنیا بھر میں لاک ڈآؤن اور کورونا وبا کے دوران لوگوں نے ضرورت مندوں کی مدد کی ۔ اس تناظر میں ایک نئی اصطلاح رینڈم ایکٹ آف کائنڈنیس سامنے آئی جس میں اچانک اور اجنبی لوگوں کی مدد کی گئی۔ اب معلوم ہوا ہے کہ یہ عمل دماغی اور جسمانی صحت کے لیے نہایت مفید ہوتا ہے۔ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مدد، خیرات اور دادرسی نہ صرف ضرورت مند کے لیے مفید ہوتی ہے بلکہ دینے والے شخص کی جسمانی اور نفسیاتی فوائد میں اضافہ کرتی ہے۔ اس ضمن میں امریکہ اور دیگر ممالک میں کئی مطالعات کئے گئے ہیں جس میں دماغی کلینکل ٹیسٹ بھی کیے گئے ہیں۔قریباً تمام سروے اور مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ رحم دلی اور مدد کا جذبہ دینے والے سخی کی طمانیت اور سکون کی وجہ بنتا ہے۔ اس کی تصدیق دماغی اور سی ٹی اسکین سے ہوچکی ہے۔ دوسری جانب مدد اور خیرات کرنے والے لوگ منفی رویوں کے شکار نہیں ہوتے اور نہ ہی ان میں ڈپریشن بڑھتی ہے۔ایک اور طویل تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہمدردی اور مدد کرنے والے مردوزن دیگر افراد سے زیادہ زندگی پاتے ہیں ۔ ایک ایسی زندگی جس میں جسمانی اور نفسیاتی عوارض بھی کم کم ہوتے ہیں۔ایک اور دلچسپ تحقیق بھی قابلِ ذکر ہے جو امریکا میں کی گئی ہے۔ اس میں ہائی بلڈ پریشر کے دیرینہ مریضوں سے کہا گیا کہ وہ ایک ہفتے میں 40 ڈالر کسی ضرورتمند کو تلاش کرکے دیں۔ رضاکاروں سے کہا گیا کہ وہ چھ ہفتے تک یہ معمول جاری رکھیں۔ اس دوران جن افراد نے اس خیراتی کام پر عمل کیا ان کے بلڈپریشر میں نمایاں کمی بھی دیکھی گئی تھی۔پھر برطانوی نفسیات دانوں نے یہ کہا کہ کسی مصیبت زدہ کی مدد کرنے سے جو خوشی ملتی ہے اس کے اثرات کم سے کم تین دن تک برقرار رہتےہیں ۔ یہ عمل کرنے والا فرد بار بار جب اس عمل کو یاد کرتا ہے تو اس میں خود آگہی اور خود عزتی کی جذبہ بھی بیدار ہوتا ہے۔ یہ خودتوقیری نفسیات میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.