ماہرین کے مطابق پاکستان کو کن ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کرنا پٹرھتا ہے؟

ماہرین کے مطابق پاکستان کو تین اہم ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، درجہ حرارت میں اضافہ، پانی کی کمی اور فضائی آلودگی۔ ماحول میں بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے جہاں شہریوں کے بیمار ہونے کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، وہاں ہر شہری اوسطاً اپنی مجموعی عمر کے تین سال اس آلودگی کی وجہ سے کم جی رہا ہے، یعنی بغیر کسی بیماری کے صرف آلودگی کی وجہ سے ہی زندگی کے تین سال کم ہو رہے ہیں۔ماحولیاتی آلودگی کی کئی ایک وجوہات ہیں، جیسے درختوں کا کٹاؤ، بڑھتی ہوئی ٹریفک کی وجہ سے دھویں اور گرد کے اخراج میں اضافہ، کوڑے کے ڈھیر کو آگ لگانا، کارخانوں کی زہریلی گیسوں کے اخراج میں اضافہ، بجلی، گیس کے بڑھتے ہوئے استعمال سے حدت میں اضافہ ، وغیرہ۔حال میں ایک برطانوی یونیورسٹی کے مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ دریائے راوی جو لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں سے گزرتا ہے، دنیا کے تین آلودہ ترین دریاؤں میں شامل ہے ۔ اس کے پانی میں فعال دواسازی اجزاء یا APIs کی بڑی مقدار کا پایا جانا انتہائی تکلیف دہ ہے۔اس تحقیق میں دریا میں دواؤں کے ذرات پائے گئے ہیں جن میں پیراسیٹامول، نیکوٹین، کیفین اور مرگی اور ذیابیطس کی ادویات شامل ہیں۔ میڈیا کے مطابق دنیا کے 104 ممالک میں کی گئی اس تحقیق میں لاہور سے بہنے والے راوی میں دواؤں کی آلودگی کی سب سے زیادہ شرح کا پتہ چلا ہے۔ لاہور موسم سرما میں فضائی آلودگی میں عالمی شہروں کی فہرست میں مسلسل سرفہرست رہا ہے۔ دریائے راوی کی موجودہ حالت ایک دن ، ہفتے، مہینے یا ایک برس میں نہیں ہوئی بلکہ برسوں کی کہانی ہے، ایسا بھی نہیں ہے کہ دریائے راوی یا لاہور میں زیرزمین پانی کی کمی اور آلودگی کا پتہ آج چلا ہے۔ماحولیات کے ماہرین برسوں سے خبردار کرتے آئے ہیں لیکن ریاست اور حکومت کے والی وارثوں کی نااہلی، کم عقلمی اور دولت کی ہوس نے پاکستان کو آلودگی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔سرکاری اداروں کے افسران اور ملازمین کے پاس بے جا اختیارات ہونا اور ان کی غلط کاریوں پر سزا کا قانون نہ ہونا ، اداروں کے زوال اور تباہی کا باعث بن گیا ہے ۔ آج حالت یہ ہے کہ ادارے موجود ہیں، اس میں کام کرنے والے افسر اور ملازمین موجود ہیں، عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی سرکاری آمدنی میں ان سرکاری افسران اور ملازمین کو اربوں روپے تنخواہوں اور مراعات کی مد میں ادا کی جارہی ہیں لیکن ان کے جو فرائض ہیں ، وہ ادا نہیں ہورہے ہیں۔یہ مسئلہ چونکہ کسی ایک ملک اور قوم کا نہیں بلکہ یہ پوری دنیا اور اس میں بسنے والی تمام نسلوں کی بقا کا ہے، اس لیے سب کو باہم مل کر اس کا حل نکالنا چاہیے۔ ترقی یافتہ اور بڑے ہونے کے ناتے اس میں برطانیہ، روس، امریکا اور چین کو اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ماحولیاتی آلودگی میں کمی کے لیے لازمی ہے کہ عالمی سطح پر طرزِ زندگی میں تبدیلی لائی جائے۔چین اس حوالے سے ہر ممکن تعاون کے لیے کہا گیا تھا لیکن امریکا کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہ ملا۔امریکا کو اس طرح کے عالمی مسائل سے سروکار ہی نہیں ہے، وہ صرف دنیا میں جنگیں لڑنے سے دلچسپی رکھتا ہے۔بلاشبہ پاکستان ایسے اقدامات بھی کر رہا ہے جو تحفظ ماحول کے لیے ضروری ہیں۔ پاکستان میں قومی خزانے سے 120 ملین ڈالر کی لاگت کے ساتھ ’بلین ٹری سونامی‘ منصوبے کے تحت ایک ارب درخت لگائے گئے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ملک بھر میں مزید دس ارب درخت لگانے کا اعلان کرچکی ہے، جس کے لیے قریب ایک ارب امریکی ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ چونکہ درخت آکسیجن کا باعث بنتے ہیں اور ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لیے حکومت کو چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں پر پابندی لگائیں اور الیکٹرک گاڑیوں کو ملک میں متعارف کروایا جائے۔ماحولیاتی آلودگی گو پوری دنیا کا مسئلہ ہے مگر ترقی یافتہ ممالک نے اپنے وسائل، عمل اور شعور کو بروئے کار لا کر اس پر اپنے اپنے ممالک کی حدود میں کافی حد تک قابو پایا ہوا ہے، مگر ترقی پذیر ممالک مثلاً پاکستان نے ابھی تک اس سنجیدہ مسئلے پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیںاور دن بدن اس آلودگی میں کمی ہونے کے بجائے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ہم اگر فضلے کے ڈھیر اور فصلوں کو کاٹنے کے بعد ان کو آگ نہ لگائیں تو یقیناً آلودگی پر قابو پا سکتے ہیں، ہم اگر درختوں کو کاٹنے کے بجائے لگانے والے بنیں یا اگر مجبوری میں کاٹنا پڑ جائے تو کاٹ کر لگا بھی دیا جائے تو یقیناً آلودگی پر قابو پا سکتے ہیں۔ہم اگر کم آلودگی والی یا ہائبرڈ گاڑیاں استعمال کریں تو اس آلودگی پر یقیناً قابو پا سکتے ہیں۔ ہمیں سائیکل کلچر کو معاشرتی اور سرکاری سطح پر فروغ دینا چاہیے، بجائے سائیکل چلانے والے کو غریب تصور کیا جائے اور حقارت کی نظر سے دیکھا جائے۔ سائیکل کلچر کو فروغ دے کر جہاں ہم معاشرے میں پائے جانے والے تکبر سے باہر نکل سکتے ہیں، وہاں صحت کے معیار کو بہتر کرتے ہوئے آلودگی پر بھی قابو پا سکتے ہیں۔حکومت کو بھی اس سنگین مسئلہ سے نمٹنے کے لیے موثر اورمضبوط حکمت عملی ترتیب دینے اور اس پر عملدرآمدکی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.