دہی کھاتے وقت کونسی غلطیوں سے پرہیز کرنا چاہیے؟

دہی قدیم زمانے سے ہماری غذا اور ہمارے آباؤ اجداد کا حصہ رہا ہے، اکثر لوگ کھانے کے بعد یا کھانے کے حصے کے طور پر اپنا نظام ہاضمہ اور قوت مدافعت کو بڑھانے کے لیے دہی کھاتے ہیں، دہی کو استعمال کرنے کے بہت سے طریقے ہیں۔دہی میں بہت سے قسم کے بیکٹیریا ہوتے ہیں جو ہمارے نظام ہاضمہ کو بہتر کرتے ہیں اور مجموعی قوت مدافعت کو بڑھاتے ہیں، یہ ان لوگوں کے لیے دودھ کے صحت مند متبادل کے طور پر بھی کام کرتا ہے جو لییکٹوز کو برداشت نہیں کرتے اور کیلشیم اور فاسفورس کی ضرورت کا خیال رکھتے ہیں۔ رائبوفلاوین، وٹامن اے، وٹامن بی 6، وٹامن بی12، اور پینٹوتھینک ایسڈ کے پاور ہاؤس، دہی میں لییکٹک ایسڈ بھی ہوتا ہے جو غذائی اجزاء کو جذب کرنے میں مدد کرتا ہے۔یہاں ماہرین بتارہے ہیں کہ ہمیں دہی کا استعمال کرتے وقت کونسی غلطیوں سے بچنا چاہیے۔دہی کو گرم نہیں کرنا چاہیے، گرمی کی وجہ سے یہ اپنی خصوصیات کھو دیتا ہے۔موٹاپے، سوزش کی حالت میں دہی سے پرہیز کرنا بہتر ہے۔دہی رات کو کبھی نہیں کھانا چاہیے۔دہی کا روزانہ استعمال نہیں کرنا چاہیے بلکہ آپ اسے مختلف طریقوں سے روزانہ کھاسکتے ہیں جیسے لسّی، رائتہ وغیرہ۔دہی کو پھلوں کے ساتھ ملاکر نہیں کھانا چاہیئے۔ دہی گوشت اور مچھلی سے مطابقت نہیں رکھتی۔ چکن، مٹن یا مچھلی جیسے گوشت کے ساتھ پکایا ہوا دہی کا کوئی بھی مرکب جسم میں زہریلے مواد پیدا کرے گا۔لہٰذا اگر آپ دہی کھانا چاہتے ہیں تو اسے کبھی کبھار، دوپہر کے وقت اور اعتدال میں کھائیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.