تین ہزار سال پُرانا پُراسرار ہاتھ نمائش کے لیے تیار

تین ہزار سال قبل بنائے جانے والے پُر اسرار ہاتھ کو اس ہفتے برطانیہ میں پہلی بار نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔اس ہاتھ کے لیے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ یورپ کا سب سے قدیم مصنوعی ہاتھ ہے۔یہ قدیم شے مغربی سوئٹزرلینڈ میں 2017 میں دریافت ہوئی تھی۔یہ ہاتھ کانسی کا بنا ہوا ہے جس کا کف سونے کا ہے اور یہ 1500 قبلِ مسیح سے 1400 قبلِ مسیح کے درمیان بنایا گیا تھا۔یہ ہاتھ اس سے قبل صرف ایک بار مختصر عرصے کے لیے جرمنی میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا لیکن اب اس کو برٹش میوزیم میں ’ورلڈ آف اسٹونہنج ایگزیبیشن‘ کا حصہ بنایا جائے گا۔یہ ہاتھ بیئل جھیل کے قریب ایک انسان کی قبر میں دفن پایا گیا۔ اس کے ساتھ بالوں کی چُٹیا، کانسی کا بلیڈ اور عبا کی پِن بھی تھی۔برِٹش میوزیم میں کیوریٹر نیل وِلکن کا کہنا تھا کہ عین ممکن ہے یہ مصنوعی ہاتھ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہو۔ البتہ کچھ ماہرین اس بات سے اختلاف کرتے ہیں کیوں کہ انسان کی باقیات تصدیق کرنے کے لیے بہت خراب ہو چکی ہیں کہ یہ اس فرد کو فِٹ ہو سکے۔ڈاکٹر وِلکن کا کہنا تھا کہ یہ مکمل طور پر حیران کردینے والی شے ہے- ہم نے اس جیسی چیز کبھی نہیں دیکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ شاید یہ ہاتھ اپنی تیز دھار چپٹی انگلیوں کی وجہ سے ہتھیار کے طور پر بھی کام آتا ہو، جبکہ ایک متبادل خیال یہ ہے کہ یہ مشروب پینے کا برتن ہو جس کو میسوپوٹیمین ثقافت سے متاثر ہوکر بنایا گیا ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.