یواےای ؛ دوسروں کی برائیاں کرنے کی عادت نے ملازم کو مشکل میں ڈال دیا

متحدہ عراب امارات میں کام کے وقت دوسروں کی برائیاں کرنے والے ملازم کو جرمانہ کردیا گیا ، فجیرہ عدالت نے ایک 35 سالہ عرب ملازم کو کام کی جگہ پر گپ شپ کرتے ہوئے اپنے ساتھی کارکن کی توہین اور اس کو بدنام کرنے پر 1,100 درہم جرمانہ کیا ہے ۔ اماراتی میڈیا کے مطابق کیس کی تفصیلات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے شکایت کنندہ کو اپنے ساتھی کارکنوں کے سامنے بدنام کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ اس کے ساتھی ملازم نے منشیات کا استعمال کیا اور اس کے پاس اس کا پولیس ریکارڈ بھی موجود ہے۔اس کیس کی تفتیش کے دوران شکایت کنندہ نے بتایا کہ ملزم نے اسے اپنے کام کی جگہ پر منشیات کے استعمال اور دھوکہ دہی کا الزام لگا کر بدنام کیا تھا ، اس حوالے سے دو گواہوں نے گواہی بھی دی اور بتایا کہ وہ ملزم کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے جب اس نے تبصرہ کیا کہ شکایت کنندہ کو منشیات کے استعمال کی وجہ سے اس کی سابقہ ملازمت سے برخاست کر دیا گیا تھا اور اس کے جرائم کی ایک تاریخ تھی ۔بعد ازاں پبلک پراسیکیوشن نے ملزم کے توہین آمیز الفاظ، جس سے کسی کی عزت اور وقار مجروح ہوا، اس کے الزام میں عدالت سے رجوع کیا جہاں مقدمے کی جانچ کرنے کے بعد فجیرہ کی عدالت نے ملزم پر 1,100 درہم جرمانہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اسے مقدمہ کی فیس ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا ۔ دوسری جانب دبئی میں مقیم ایک ملازم پر ایک خاتون ٹی وی پریزنٹر پر نازیبا تصاویر اور کلپس شائع کرنے پر حملہ کرنے اور دھمکیاں دینے کا الزام عائد کردیا گیا ، 32 سالہ ملازم کے ٹی وی اینکر کے ساتھ رواں سال اگست تک رومانوی تعلقات رہے جس کے بعد دونوں کے درمیان معاملات غلط ہو گئے ، دبئی پولیس کو بعد میں البرشا کے علاقے میں ایک اپارٹمنٹ میں جوڑے کے باہمی حملے کے واقعے کی رپورٹ موصول ہوئی ، خاتون نے پولیس کو بتایا کہ جب وہ ٹیلی ویژن پر لائیو خبریں پیش کرنے جا رہی تھی تو اس شخص نے اس پر حملہ کیا اور اس کی توہین کی ، راشد ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ نے اس کے زخمی ہونے کے دعوؤں کی تصدیق کی۔خاتون نے گواہی دی کہ وہ حملہ سے 9 ماہ قبل مدعا علیہ سے ملی تھی اور وہ واقعے کی رات تک رشتے میں تھے ، جب وہ اس کے اپارٹمنٹ میں تھی تو ان کے درمیان جھگڑا ہوا ، اس نے مجھے منہ پر تھپڑ مارا اور میں میز پر گر گئی اور میری پسلی کو چوٹ لگی ، پولیس کو واقعے کی اطلاع دینے کے بعد ملازم نے خاتون کو دھمکی دی کہ اگر اس نے کوئی قانونی مدد مانگی تو وہ ان کی تصاویر شائع کر دے گا ، اس نے اسے اپنے ٹیلی ویژن چینل پر بدنام کرنے کی دھمکی بھی دی۔ دریں اثنا مدعا علیہ نے گواہی دی کہ خاتون نے بھی اس کی توہین کی تھی کیوں کہ اسے لگتا تھا کہ وہ اسے دھوکہ دے رہا ہے اور اس نے اس کا فون توڑ دیا ، اس نے دعوی کیا کہ خاتون نے اس پر حملہ کرنے کی کوشش کی جس پر اس نے اسے دور دھکیل دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.