پرائیویسی میں مداخلت، فیس بک کا نوکروڑ ڈالرمیں تصفیہ

امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کی بانی کمپنی نے استعمال کنندگان کی پرائیویسی میں دخل اندازی کرنے کے الزام پر نو کروڑ ڈالر ادا کرنے پر رضا مندی ظاہر کردی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صارفین کی جانب سے دس سال قبل کیلیفورنیا کی عدالت میں ایک مقدمہ دائر کیا گیا تھا، جس میں فیس بک ( نیا نام میٹا) پرالزام عائد کیا گیا تھا کہ یہ ایپلی کیشن استعمال کنندگان کی اس وقت بھی نگرانی کرتی ہے جب صارف اسے استعمال نہیں کر رہا ہوتا۔اے ایف پی نے اپنی رپورٹ میں بتایاہے کہ میٹا اس کیس کے تصفیے کے لیے عدالتی حکم پر رقم کی ادائیگی کرنے پر راضی ہوگئی ہے۔ اور پیر کے دن ایک راضی نامہ کیلی فورنیا کی مذکورہ عدالت میں بھی جمع کروا دیا ہے۔جج کی جانب سے اس فیصلے کی منظوری ملنے کے بعد ایک دہائی سے چلنے والے اس مقدمے کو خارج کردیا جائے گا۔جو فیس بک پر صارفین کی سیکیورٹی اور پرائیویسی میں دخل اندازی کی بنیاد پر دائر کیے گئے ہیں ۔اس کیس کے حوالے سے میٹا کے ترجمان ڈریو پوساتری نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ’ دس سال سے زائد عرصے سے چلنے والے اس کیس میں تصفیہ ہماری کمیونٹی کے مفاد میں ہے اور اس مسئلے سے نکلنا ہمارے لیے باعث مسرت ہوگا‘اس مقدمے میں فیس بک پر صارفین کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا الزام عائد کیا گیا تھا، جب کہ فیس بک صارفین کی پرائیویسی میں مخل ہوتے ہوئے صارف کی جانب سے لائیک کی گئی دوسری ویب سائٹ پر رسائی کی معلومات تک کو اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے۔اس الزام پر فیس بک کا موقف تھا کہ ہم استعمال کنندگان کو اس کے مطلوبہ اشتہارات دکھانے کے لیے یہ ڈیٹا جمع کرتے ہیں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر یہ مقدمہ ان افراد کی جانب دائر کیا گیا تھا جو 2010 سے 2011 تک اس پلیٹ فارم پر سرگرم رہے۔تاہم عدالتی دستاویزات میں فیس بک کے اس مبینہ اقدام کو کمپنی کی وضح کردہ پالیسوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے تصفیے کے لیے فیس بک کو نو کروڑ ڈالر کی ادائیگی اور جمع کیے گئے ڈیٹا کو ڈیلیٹ کرنے کا کہا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.