لیباریٹری میں جانوروں پر ظلم، ایلون مسک کے خلاف درخواست دائر

دنیا کی امیر ترین شخصیات کی فہرست میں شامل ایلون مسک کی دو کمپنیوں اسپیس ایکس اور ٹیسلا سے تو سب ہی اچھی طرح واقف ہیں۔لیکن ایلون مسک انسانی دماغ پر قابوپانے کے لیے ’ نیورا لنک‘ کے نام سے بھی ایک کمپنی قائم کرچکے ہیں جس کا مقصد ایک ایسی ڈیوائس بنانا ہے جس کی مدد سے انسانی دماغ کو کمپیوٹر سے منسلک کیا جاسکے۔ایلون مسک کی کافی حد تک گمنام رہنے والی برین چپ کمپنی کی بازگشت گزشتہ ہفتے اس وقت سنائی دی جب امریکا کے محکمئہ زراعت نے عدالت میں ایک درخواست دائر کی۔درخواست میں نیورالنک پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ کمپنی برین چپ ٹیکنالوجی پر تجربات کے لیے میکا ک نسل( لنگور کی نسل سے تعلق رکھنے والے میکاک بندر کا شمار دنیا کے قدیم ترین اور اعلی حیوانات میں کیا جاتاہے)کے بندروں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کر رہی ہے۔درخواست میں مزید کہاگیا ہے کہ نیورالنک نے تجربہ گاہ میں 23 بندروں پر بہت ہلاکت خیز دماغی تجربات کیے ہیں ، جب کہ بہت سے جانوروں کے دماغ میں برقیرے ( الیکٹراڈز) نصب کرنے کے لیے ان کی کھوپڑی کے اوپری حصے کو ہٹا دیا گیا ہے۔تاہم نیورا لنک نے اپنے بلاگ میں ان تمام تر الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہےکہ ’ ہم جانوروں کی فلاح پر یقین رکھتے ہیں ہم جانوروں سے بہت زیادہ انسانی اور اخلاقی برتاؤ روا رکھتے ہیں۔‘تاہم ایلون مسک کے جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.