ایک سے بڑھ کر ایک

ایک سے بڑھ کر ایک

تردیدوں‘ وضاحتوں‘ دعووں‘ وعدوں سمیت نجانے کیا کچھ زوروں پر ہے۔ کہیں قصر اقتدار سے نقل مکانی کی تردید کی جا رہی ہے اور وزیروں‘ مشیروں کی طرف سے سبھی خبریں اور افواہیں بے بنیاد قرار دینے کے علاوہ جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کا اعلان بھی جاری ہو چکا ہے۔ بلند بانگ دعووں اور وعدوں سمیت آئین اور ضابطوں سے کیسے کیسے انحراف کے مرتکب ہونے والوں کو کس قدر دشواری کا سامنا ہے کہ زبانی جمع خرچ اور روایتی تردیدوں کے سوا ان کے پلے کچھ بھی نہیں۔وقتی طور پر تو ان وضاحتوں اور تردیدوں سے چند دن گزارے جا سکتے ہیں لیکن بسا اوقات ان تردیدوں اور وضاحتوں کی بھی تردیدیں اور وضاحتیں دینا پڑ جاتی ہیں۔سچ‘ بڑھے یا گھٹے تو سچ نہ رہےجھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیںمردم شناسی میں کوتاہی کے اثرات دیر سے نمودار ہوتے ہیں لیکن ان کے اثرات اور اَنمٹ نقوش تادیر اس کوتاہی کو بھولنے نہیں دیتے۔ کوئے اقتدار میں امورِ حکومت چلانے والے شریکِ اقتدار ہوں یا مشاورت پر مامور مشورے دینے والے‘ میری نظر میں سبھی مردم شناسی کے چلتے پھرتے نمونے ہیں۔ وزیروں اور مشیروں کے انتخاب سے لے کر اہم ترین فیصلوں اور طرز حکمرانی پر فیصلہ کن اہمیت اور حیثیت رکھنے والوں تک کی قیمت حکمرانوں اور انتظامی سسٹم کو ہی ادا کرنا پڑتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ قیمتیں کئی دہائیوں سے چکائی جا رہی ہیں۔ فیصلہ کن اختیارات کے حامل ایسے کردار ہر دور میں کسی نہ کسی صورت موجود اور سرگرم رہتے ہیں۔ فیصلوں اور اقدامات کے اثراتِ بد جوں جوں بڑھتے چلے جاتے ہیں‘ توں توں حکمت اور دانش کے ساتھ ساتھ وژن اور ایجنڈے بھی بے نقاب ہوتے چلے جاتے ہیں۔قیام پاکستان سے لے کر لمحہ موجود تک‘ کس کس کا نام لیں۔ ہماری تاریخ ایسے کرداروںسے بھری پڑی ہے جن کی رائے اور مشورہ کہیں مقدم اور کہیں اٹل سمجھا جاتا تھا۔ مملکت ِ خداداد پر حکمرانی کے منصب پر فائز رہنے والے کسی حکمران نے ماضی کے حالات اور کرداروں سے نہ کبھی کوئی سبق سیکھا اور نہ ہی عبرت حاصل کی۔ ایسے کرداروں کے انجام ہوں یا ان پر فریفتہ ہونے والے حکمران‘ سبھی کے واقعات اور کہانیاں تاریخ کے اوراق کا حصہ ہیں۔ نہ کوئی ان اوراق کو پلٹنے کی زحمت کرتا ہے نہ ہی اپنے فیصلے اور اقدامات سے پہلے انہیں پیش نظر رکھتا ہے۔ خدا جانے کوئے اقتدار میں کون سا آسیب ہے جو مردم شناسی جیسی بنیادی صلاحیت کو ایسے سلا ڈالتا ہے کہ بیدار ہونے تک بہت کچھ اس نیند کی بھینٹ چڑھ چکا ہوتا ہے۔ یہ کیسا حرمان نصیب خطہ ہے‘ کیسی کیسی بدنصیبی اس میں بسنے والوں کے بختوں میں لکھ دی گئی ہے۔ نہ احترامِ آدمیت ہے‘ نہ لحاظِ منصب‘ نہ آئین کی پاسداری ہے‘ نہ قانون کی حکمرانی‘ نہ اخلاقی قدریں ہیں‘ نہ سماجی انصاف‘ نہ رواداری ہے‘ نہ وضع داری۔ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہاں جنم لینا ہی بازی ہار جانے کے مترادف ہو۔ ایسا ایسا شرمندہ کر دینے والا‘ غیر انسانی اور دل دہلا دینے والا منظر رات کی نیند اور دن کا چین برباد کیے رہتا ہے کہ الامان والحفیظ۔کہیں پنجاب کی حکمرانی پاؤں پسارے بیٹھی ہے‘ تو کہیں سندھ میں انتظامیہ خوابِ غفلت کا شکار ہے۔ کہیں انصاف سرکار سماجی انصاف اور گورننس سے ضد لگائے بیٹھی ہے تو کہیں سرکاری بابو اپنی بستی بسائے بیٹھے ہیں۔ کہیں فرش پر بچے پیدا ہو رہے ہیں تو کہیں بروقت مناسب علاج فراہم کرنے کے بجائے مریضوں کو دھتکار دیا جاتا ہے‘ کہیں آوارہ کتے معصوم شہریوں کو یوں بھنبھوڑ ڈالتے ہیں گویا جیتے جاگتے انسان نہیں بلکہ راستے میں پڑی ہوئی ہڈیاں ہوں۔ کوئی تھانوں میں تفتیش کے نام پر جان سے گزر جاتا ہے تو کوئی انصاف کے لیے دربدر پھرتے پھرتے بے بسی کی تصویر بن جاتا ہے۔ کوئی علاج کی تمنا اور حسرت دل میں لیے ہی نامراد اپنے خالقِ حقیقی کی طرف لوٹ جاتا ہے تو کوئی پنشن اور واجبات کے حصول کے لیے جوتے چٹخانے پر مجبور نظر آتا ہے۔ایک وائرل وڈیو میں صوبائی دارالحکومت کے ایک بڑے ہسپتال میں ایک مریض کا ہرنیا کا آپریشن دو ماہ کے لیے محض اس لیے ملتوی کر دیا گیا کہ شدید تکلیف اور درد سے چلانے والا مریض ہیلتھ کارڈ پر علاج کرانے آیا تھا۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اگر فوری آپریشن کرانا ہے تو نقد رقم جمع کرانا ہو گی۔ ہیلتھ کارڈ پر آپریشن کی علیحدہ فہرست ہے‘ اس پر علاج کرانے کے لیے اس کے مطابق تاریخ تک انتظار کرنا پڑے گا۔ مریض کے باپ کی وائرل ہونے والی وڈیو میں اس کی بے بسی اور فریاد کے ساتھ ساتھ دھتکار اور پھٹکار کے سبھی مناظر پنجاب سرکار کے لیے وہ سوالیہ نشان ہیں کہ ہیلتھ کارڈ ہونے کے باوجود علاج سے انکار کرنے والے ہسپتالوں میں ذلیل ہونے والے مریض کہاں جاکر سر پھوڑیں۔ سرکار کو چاہئے کہ ایسے مریضوں کے لیے ایک اعلامیہ جاری کرے کہ ہسپتالو ں سے ملنے والی طویل مدتی تاریخوں کے انتظار میں مریض فارغ نہ بیٹھیں بلکہ صبح شام احساس پروگرام کا ورد کریں اور روزانہ تین ٹائم تکلیف والی جگہ پر ہیلتھ کارڈ کو مل لینے سے بھی افاقہ ہو سکتا ہے۔ ہسپتالوںمیں دھکے کھانے کے بجائے کارڈ ملنے سے بھی مریض کو وہ آرام مل سکتا ہے کہ اسے دوبارہ کبھی ہسپتال جانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔ جلد ایسے حالات بھی پیدا ہو سکیں گے کہایک اک کر کے مر گئے سارےسب چیخیں خاموش ہوئیںبستی کا رکھوالا سمجھاروگ کٹے بیماروں کےحکمران ماضی کے ہوں یا عہدِ حاضر کے‘ نہ اُنہیں کوئی فرق پڑا تھا نہ اِنہیں کوئی فرق پڑتا دِکھائی دیتا ہے۔ عوام اسی طرح رُلتے اور مرتے رہیں گے۔ مردم شناسی ضد بن کر فیصلے اور شریکِ اقتدار وزیروں اور مشیروں کا انتخاب کرتی رہی گی اور یہ سبھی قوم کو اسی طرح مہنگے اور مزید مہنگے پڑتے رہیں گے۔ عوام سستے‘ مزید سستے ہوتے ہوتے اس قدر ارزاں ہوتے رہیں گے کہ حکومت بجا طور پر یہ دعویٰ کرسکے گی کہ کون کہتا ہے مہنگائی ہے‘ سب کچھ تو سستا ہے۔ احترام آدمیت سے لے کر انسانیت تک‘ خون اور عزت و آبرو سے لے کر ملی حمیت تک‘ قانون اور ضابطوں سے لے کر اخلاقی قدروں کی پامالی تک‘ داد رسی کے لیے دربدر کی ٹھوکروں سے لے کر خودکشیوں تک‘ طرزِ حکمرانی کے نتیجے میں دھتکار اور پھٹکار کے دردناک مناظر سے لے کر عرصۂ حیات تنگ ہونے تک‘ سبھی کچھ تو سستا ہے اور لمحہ بہ لمحہ‘ روز بروزمزید سستا ہوتا چلا جا رہا ہے۔ عوام کو تو بس عادت ہے رونے اور واویلا کرنے کی۔ حکومت کوئی بھی ہو‘ ماضی کی ہو یا دورِ حاضر کی‘ اس سے بڑھ کر اور کیا کر سکتی ہے؟ پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ افراد اور اقوام اپنی غلطیوں سے نہیں بلکہ غلطیوں پر اصرار اور ضد سے تباہ ہوتے ہیں۔ کیسی اصلاحات؟ کون سے اقدامات؟ کیسی پالیسیاں؟ اور کہاں کی گورننس؟ نواز شریف سے لے کر بے نظیر تک‘ پرویز مشرف سے لے کر شوکت عزیز تک‘ آصف زرداری سے لے کر موجودہ حکمرانوں تک‘ سبھی ایک دوسرے کا تسلسل اور ایک سے بڑھ کر ایک ثابت ہو چکے ہیں۔ مزید ثابت ہونے کے لیے کیا باقی رہ گیا ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published.