کمپیوٹر کی دنیا کےسب سے بڑے جھوٹ بے نقاب

جب بھی کمپیوٹر سست چلنا شروع کر دیتا ہے ہمارے دماغ میں پہلا خیال یہی آتا ہے کہ یہ ضرور کسی وائرس ، ٹروجن یا اسپائی ویئر کی کرامت ہے۔ ہمارے نیم حکیم کمپیوٹر ماہرین بھی ماؤس ہلاتے ہی ارشاد فرما دیتے ہیں کہ بھیا آپ کے کمپیوٹر میں ضرور وائرس آچکا ہے، اس لیے کوئی اچھا اینٹی وائرس انسٹال کرو۔لیکن ضروری نہیں کہ ہر بار قصور صرف کسی وائرس کا ہی ہو۔اب آپ خود سوچیں کہ اگر وائرس آپ کا کمپیوٹر سست کر دے گا تو اس کا مقصد کیسے پورا ہو گا؟ کیا وائرس یا مال ویئر کا مقصد آپ کے کمپیوٹر کو جامد کر دینا ہوتا ہے؟ یعنی اپنے کام کے آغاز پر ہی پکڑا جائے؟ بالکل بھی نہیں، بلکہ وائرسز کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بالکل غیرمحسوس طریقے سے پس منظر میں رہتے ہوئے کام کریں تاکہ اُن کی آمد کا آپ کو احساس تک نہ ہو۔جدید کمپیوٹر پروگرامز کو کام کرنے کے لیے خاصی زیادہ میموری درکار ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ جب آپ ایک سے زیادہ پروگرامز استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو ان کے درمیان میموری کی چھینا جھپٹی جاری ہوتی ہے۔ 2 گیگا بائٹس میموری جدید آپریٹنگ سسٹم اور سافٹ ویئر کے لیے بہت معمولی ہے۔ صرف ویب براؤزرز جیسے کہ گوگل کروم اور موزیلا فائرفوکس کو اتنی زیادہ میموری درکار ہوتی ہے جتنی میموری میں ونڈوز ایکس پی بڑے مزے سے چل جایا کرتی تھی۔اس لیے کم میموری والے کمپیوٹروں میں یہ ویب براؤزر اکیلے ہی سسٹم کو سست کرنے کے لیے کافی ہیں۔ ویب براؤزر میں کھلے غیرضروری tabs اور براؤزر میں نصب کئے گئے بے شمار ایڈاونز یا ایکسٹینشن بھی میموری پر ہاتھ صاف کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے اگلی بار جب آپ کا کمپیوٹر سست ہوجائے تو وائرس کو موردِ الزام ٹھہرانے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ آپ کون سے پروگرام چلا رہے ہیں اور وہ کتنی میموری یا سی پی یو استعمال کررہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.