دماغ کی میموری بھر جاتی ہے اسلئے بڑھاپے میں باتیں یاد کرنا مشکل لگتا ہے، تحقیق

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ پرانی باتوں کو یاد کرنے کے معاملے میں ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سائنسدانوں نے اس حوالے سے ایک تحقیق کی ہے جس میں بتایا ہے کہ پرانی باتوں کو یاد کرنے میں مشکلات کا سامنا اسلئے کرنا پڑتا ہے کہ عمر رسیدہ لوگوں کے دماغ میں کئی برسوں سے یادیں اور دیگر معلومات کا ایک ذخیرہ جمع ہو چکا ہوتا ہے اور ایک طرح سے اس میں ڈیٹا (انفارمیشن) اس قدر بھر چکی ہوتی ہے کہ لوگوں کو باتیں سوچنے میں وقت لگتا ہے۔یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی ہارڈ ڈسک میں ڈیٹا بھر جائے اور کوئی مخصوص ڈیٹا ڈھونڈنے میں مشکلات پیش آئیں۔تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ہمیں وہ بات دبانے یا اسے غیر اہم قرار دینے میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں جو عمر کے اُس مخصوص حصے میں غیر متعلقہ ہو چکی ہوتی ہے. اسلئے بڑھاپے میں لوگوں کو نہ صرف متعلقہ معلومات یاد کرنے میں مشکل پیش آتی ہے اور متعلقہ معلومات یاد آ جائے تو اس کے ساتھ کچھ غیر ضروری چیزیں بھی یاد آ جاتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.