موبائل سم کا زمانہ، اب ہوا پرانا

اسمارٹ فونز کے لیے چپ بنانے والی امریکی کمپنی کوالکوم نے دنیا کی پہلی آئی سم کا تصور پیش کیا ہے جس سے فزیکل سم کارڈ اور ای سم کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔اسمارٹ فون کو مزید اسمارٹ بنانے کے لیے انٹی گریٹڈ سم کا تصور کوالکوم نے ووڈا فون اور تھیلیز کے اشتراک سے پیش کیا ہےکوالکوم کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس طریقہ کار میں سم ایلیمنٹ کو ڈیوائس کے پروسیسرمیں فٹ کردیا گیا ہے، جس کی بدولت سم کارڈ لگانے کی جگہ کو زیادہ بڑی بیٹری، ریم یا دیگر آلات لگانے کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔مذکورہ بالا تینوں کمپنیوں نے اپنے اس تصور کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔ سام سنگ کی یورپین ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ لیب میں ہونے والے اس مظاہرے میں آئی سم سے مزین سام گلیکسی زی فلپ تھری کو پیش کیا گیا۔کوالکوم کا اس بابت کہنا ہے کہ فزیکل سم کارڈ کے بعد بہت سے اسمارٹ فونز میں الیکٹرانک سم کو مستقبل قرار دیا گیا، لیکن اس کے لیے الگ سے چپ لگانی پڑتی ہے۔ جب کہ بہت سے موبائل فون ابھی تک مائیکرو سم کارڈ سلاٹ کے ساتھ مارکیٹ کیے جارہے ہیں۔آئی سم کانسیپٹ میں سم ایلیمنٹ کو براہ راست فون کے پروسیسر سے مربوط کردیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے اسمارٹ فون کی کارکردگی اور میموری کی گنجائش میں نمایاں اضافہ ہوگا۔اس کانسیپٹ سے نہ صرف اسمارٹ فون بلکہ جسامت میں چھوٹی ویئر ایبل اور آئی او ٹی( انٹرنیٹ آف تھنگز) ڈیوائسز میں موبائل کنیکٹویٹی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔یہ آئی سم، ای سم کے پہلے سے موجود انفرا اسٹرکچر پر کام کرتے ہوئے ایک منفرد یوزر آئی ڈی فراہم کرے گی اور صارفین پلاسٹک کے ایک ٹکڑے سے اپنی معلومات کو ایک سے دوسرے فون میں منتقل کرنے کی جھنجھٹ سے چھٹکارا پاسکیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.