اتنا ڈر کیوں لگ رہا ہے؟

اتنا ڈر کیوں لگ رہا ہے؟

مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب فرماتے ہیں کہ زرداری اپنا ایجنڈا لے کر آئے تھے لیکن ہماری قیادت نے واضح کر دیا کہ ہم ان کے ایجنڈے کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ موصوف کی اس بے نیازی کے صدقے جائوں یا واری واری جائوں۔ اس اصولی فیصلے اور طرز سیاست کے پس منظر میں جائوں یا پیش منظر میں۔ گویا:ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھدیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلاموصوف کے اس بیانیے کی تشریح کریں تو صورت حال کچھ یوں دکھائی دیتی ہے کہ آصف علی زرداری چوہدری برادران کے گھر سوال لے کر آئے اور خالی ہاتھ لوٹا دئیے گئے۔ قانونِ فطرت ہے کہ کوئی بھی ذی روح اپنی روح فنا ہونے سے پہلے بے نقاب اور بے لباس ضرور ہوتا ہے۔ مملکت خداداد پر شوقِ حکمرانی پورے کرنے والے ہوں یا من مانی کرنے والے‘ سرکاری وسائل کو بھنبھوڑنے والے ہوں یا بندر بانٹ کرنے والے‘ قومی خزانے پر کنبہ پروری کو رواج دینے والے ہوں یا بندہ پروری کو‘ گورننس کو دھندا بنانے والے ہوں یا میرٹ کو تار تار کرنے والے‘ قانون اور ضابطوں کو گھر کی باندی سمجھنے والے ہوں یا آئین اور اپنے وعدوں سے انحراف کرنے والے‘ سبھی بتدریج بے نقاب اور بے لباس ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ان سبھی کے کیسے کیسے چہرے‘ کیسے کیسے روپ اور کیسے کیسے بہروپ کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ عوام کے درد میں دُبلے ہوئے جا رہے ‘سماج سیوک‘ نیتائوں نے ملک و قوم کے ساتھ کون سا کھلواڑ نہیں کیا۔ گورننس کے نام پر ان کے کھیل کھلواڑ ہوں یا عوام سے بدعہدیاں اور بے وفائیاں ان سبھی کی داستان اتنی طویل ہے کہ نجانے ایسے کتنے کالم درکار ہوں گے۔ تب بھی شاید ان کی طرز حکمرانی اور من مانی اس طرح سے بیان نہ کی جا سکے جس طرح انہوں نے اس ملک و قوم کو لوٹا اور ذلیل و خوار کیا ہے۔کس دھٹائی سے اپنے کرتوتوں کو گورننس اور اصولی سیاست ثابت کرتے نہیں تھکتے۔ جو حکمران سرکاری نوکریاں دینے کے عوض عوام سے قیمت وصول کرتے رہے ہوں‘ جہاں تبادلوں اور تقرریوں کی نیلامی ہوتی ہو‘ وہاں کیا کہا جائے۔ کون نہیں جانتا کہ مخصوص اضلاع میں ڈی سی سے لیکر پٹواری تک‘ ضلعی افسر سے لیکر تھانیدار تک آج بھی کس کی مرضی اور خواہش پر تعینات کئے جاتے ہیں۔ قانون اور ضابطوں پر کن کی منشا اور ترجیحات کو فوقیت دی جاتی ہے۔ میرٹ اور ضابطوں کی پاسداری کرنیوالے افسران کو تبدیل کرنے کے مطالبے کس طرح کئے جاتے ہیں۔ اصولی سیاست کا بخار کب اور کیوں چڑھتا ہے۔ حلیف سے حریف بننے کی دھمکیاںکیوں دی جاتی ہیں۔ مذکورہ صاحب جس فخریہ انداز سے آصف زرداری کو خالی ہاتھ لوٹانے اور ان کے ایجنڈے کو رد کرنے پر نازاں اور اترائے نظر آتے ہیں‘ خاطر جمع رکھیں ‘توڑی کی پنڈ‘ بس کھلنے ہی والی ہے۔ مفادات کے جھنڈے تلے اپنے اپنے ایجنڈے کیلئے اکٹھے ہونے والے اپنے ہی بیانیوں اور دعووں کی نفی کی توجیہات اور جواز گھڑتے نظر آئیں گے۔کسی کے پلے کچھ بھی تو نہیں۔ نہ کوئی نظریہ نہ ہی کوئی اخلاقیات۔ بینظیر بھٹو کی ناگہانی موت کا ذمہ دار جنہیں ٹھہرایا گیا‘ جن کے بارے میں بے نظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں ہی خدشات کا اظہار کر ڈالا تھا کہ اگر میری موت غیر طبعی ہوئی تو ذمہ دار یہ لوگ ہوں گے‘ ان میں سے ایک صاحب کو بڑے اہتمام سے گارڈ آف آنر دے کر قصرِ اقتدار سے رخصت کیا گیا تو دوسرے صاحب کے لیے ڈپٹی پرائم منسٹر کا نیا عہدہ محض اس لیے تخلیق کیا گیاکہ سیاسی تعاون کے ساتھ ساتھ استحکامِ اقتدار بھی مقدم تھا‘ جبکہ دوسرے کردار بھی موجیں مارتے اور وزارتیں انجوائے کرتے رہے۔ مفاہمت کی پینگیں اور سیاسی تعاون صرف آصف علی زرداری کی ہی ضرورت نہیں تھے۔ قاتل لیگ کا الزام لگانے والے کے در پر جانا اس لیے مجبوری بن گیا تھا کہ سیاسی جانشیں اور لخت جگر مکافات عمل کی پکڑ میں آ گیا تھا‘ جسے بچانے کیلئے ڈپٹی پرائم منسٹر کے عہدے کے عوض اپنا عددی اور سیاسی وزن آصف علی زرداری کے پلڑے میں ڈالنا ہی پڑا۔ ان صاحب کو میرا مشورہ یہ ہے کہ احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ہر پیش منظر کا ایک پس منظر بھی ہوتا ہے‘ لہٰذا پیش منظر بیان کرتے وقت ماضی کے چند اوراق بھی پلٹ لینے چاہئیں۔ فیصلے ماضی کے ہوں یا حال اور مستقبل کے‘ سبھی مصلحتوں اور مجبوریوں کے ساتھ ساتھ اقدامات کے گرد ہی گھومتے ہیں‘ جو گلے کا طوق اور پائوں کی بیڑیاں بن کر خوب کو ناخوب اور ناخوب کو خوب بنا ڈالتے ہیں۔ مخصوص وقت پہ آصف علی زرداری کی شہباز شریف اور چوہدری برادران سے ملاقاتیں اور دیگر سرگرمیاں ایک طرف اور شہر لاہور میں ایم کیو ایم کے سرکردہ رہنما وسیم اختر اور عامر خان کی آمد سیاسی بساط پر ڈرامائی اور جادوئی چالوں میں تیزی کا کھلا اشارہ ہے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی ملاقاتوں اور سرگرمیوں کا ہدف مشترک اور ایجنڈے اپنے اپنے تھے؛ تاہم ایم کیو ایم اپنے بیانیے اور تحفظات شیئر کرنے کیلئے کراچی سے نکل کر ملک کے سب سے بڑے صوبے میں آن پہنچی ہے۔ سیاسی ملاقاتوں کے علاوہ میڈیا کی سرکردہ شخصیات سے بھی بے لاگ اور کھلی گپ شپ کے دوران سندھ کی طرز حکمرانی اور من مانی کے نتیجے میں ایم کیو ایم کی پریشانی بھی دورے اور ایجنڈے کا حصہ تھی۔ وفاق میں شریک اقتدار اور حلیف ہونے کے باوجود ایم کیو ایم سندھ میں دبائو اور جبر کا شکار ہونے کی وجہ سے سینڈوچ بنی ہوئی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کی تشریح کی جو جھلک سندھ حکومت کی طرزِ حکمرانی میں نمایاں اور رائج ہے‘ ایم کیو ایم اس تشریح کو غیرآئینی اور خلاف ضابطہ گردانتی ہے جبکہ خودمختاری کو بھی خودسری قرار دے رہی ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ سیاسی ملاقاتوں اور مفاہمت کی پینگوں کا دائرہ کب ایم کیو ایم تک پہنچتا ہے کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ مفاہمت کے بادشاہ آصف علی زرداری کراچی میں ایم کیو ایم کی اہمیت اور کردار کے ساتھ ساتھ عددی حیثیت کا بھی خوب ادراک رکھتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ایم کیو ایم کے مطالبات اور تحفظات من مانی والی طرز حکمرانی کیلئے شاید قابل قبول نہ ہوں‘ لیکن یہ سیاست ہے پیارے۔ یہاں آج کے حلیف کل کے حریف اور کل کے حریف آج کے حلیف بنتے ذرا بھی دیر نہیں لگتی۔دوسری طرف کوئے اقتدار میں بھی ہلچل اور بے چینی کا سماں ہے۔ انصاف سرکار کے فیصل واوڈا نااہل قرار پا کر سینیٹ سے فارغ ہوچکے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ چند سال پہلے نااہل ہونے والوں کی اہلیت بحال اور اہل قرار پائے جانے والے نااہلی کی طرف رواں دواں ہیں۔ ہر گزرتا دن کائونٹ ڈائون کی طرف اشارہ کررہا ہے جبکہ سیاسی بساط پر بادشاہ‘ وزیروں سمیت گھوڑے اور پیادے اپنی اپنی پوزیشن پر اشارے اور اگلی چال کے منتظر ہیں۔ فیصلے میں جرأت اور پہل کرنے والے یقینا بہتر نتائج کے حامل ہو سکتے ہیں جبکہ طویل سوچ بچار کے علاوہ تاخیر شہ مات کا باعث بھی بن سکتی ہے؛ تاہم پہل کرنے والے ہی نمبر ون ہوں گے۔ اس موقع پر افتخار عارف کے چند اشعار حسب حال اور بطوراستعارہ پیش خدمت ہیں:سمندر اس قدر شوریدہ سر کیوں لگ رہا ہےکنارے پر بھی ہم کو اتنا ڈر کیوں لگ رہا ہےوہ جس کی جرأتِ پرواز کے چرچے بہت تھےوہی طائر ہمیں بے بال و پر کیوں لگ رہا ہےوہ جس کے نام سے روشن تھے مستقبل کے سب خوابوہی چہرہ ہمیں نامعتبر کیوں لگ رہا ہےدر و دیوار اتنے اجنبی کیوں لگ رہے ہیںخود اپنے گھر میں آخر اتنا ڈر کیوں لگ رہا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.