سیلف کنٹرول!کیا ہے ؟کیسے ممکن ہے؟

یہ تحقیق بس یہاں تک ختم نہیں ہوئی بلکہ کئی سال بعد یہ بچے بڑے ہوئے اور پریکٹیکل لائف میں داخل ہوئے تو ریسرچر، ان کے پاس دوبارہ گئے اور ان کی زندگی کا جائزہ لیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جن لوگوں میں انسٹینٹ گراٹیفیکیشن کا لیول زیادہ یعنی بے صبری کا عنصر پایا گیا تھا اور وہ مارشمیلو نہ کھانے کی خواہش پر قابو نہیں کرپائے تھے، ان میں سے زیادہ تر اپنی ذاتی اور پروفیشنل زندگی میں ناکام رہ گئے، اور کچھ جو اپنی اپنی مارشمیلو کا صرف مزہ لیتے رہے تھے وہ بس اوسط رہے، جب کہ جنہوں نے مارشمیلو کھانے کے لیے صبر کیا تھا، وہ خود پر زیادہ قابو پانے کے قابل غیرمعمولی تھے اور بلند ترین عُہدوں پر فائز تھے۔اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کچھ لوگوں پر ان کی لالچ یا بے صبرے پن کی وجہ سے زیادہ دیر تک رکنا گراں گزرتا ہے۔ اس لیے وہ کم فائدے پر ہی سمجھوتا کرلیتے ہیں، اور اپنے اسی مزاج کی وجہ سے معاشرے میں کوئی خاطرخواں مقام حاصل نہیں کر پاتے، جب کہ کام یابی کا راز طویل محنت اور دیرپا نتائج میں پنہاں ہے۔ استقامت کے ساتھ صبر کا دامن تھامے رہنے سے ہی مقاصد حاصل ہوا کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جو لوگ صبر اختیار کرتے ہیں، ان کے ارادے و عزم پختہ ہوتے، بڑے مقصد بناتے اور اپنی محنت اور کوشش تادیر جاری رکھتے ہوئے، بڑے فوائد حاصل کرتے اور اپنی منزل پا لیا کرتے ہیں، ایسے لوگ اپنے رشتوں میں مضبوط ہوتے اور خوش حال زندگی بسر کرتے ہیں۔
سیلف کنٹرول کیا ہے؟
سیلف کنٹرول (خود پر قابو) وہ خوبی ہے جس میں انسان کا ریموٹ خود اپنے ہاتھ میں ہو اور وہ خودشناس، پُراعتماد اور مضبوط قوت ارادی جیسی خصوصیات کا مالک ہو، اپنی جذباتی کیفیت پر پورا کنٹرول رکھنے اور صبر کے ساتھ جذبات کو منظم کرنے کی صلاحیت کے گُر سے پوری طرح آشنا ہو۔ یہ خاصیت انسان کو پروڈکٹیو بناتی ہے۔ اس کے ذریعے کوئی بھی شخص اپنے اہداف یامطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں بہ آسانی کام یاب ہوجاتا ہے۔

:سیلف کنٹرول پیدا کرنے کے طریقے
اب آخر ایسا کیا کیا جائے کہ ہم خود میں سیلف کنٹرول پیدا کرلیں اور اس کے فوائد سے بھرپور افادہ حاصل کرسکیں۔ یقیناً باطن کی جانب متوجہ ہوکر ہی اپنے نفس پر قابو پانا ممکن ہے۔اس کے لیے سب سے پہلے آپ کا اختیار جتنا بھی ہے اسے ضائع ہونے سے پہلے خود پر استعمال کیجیے، خود کو جانیے، اپنی خواہشات، جذبات، عادات، رویوں اور حواس پر قابو کیجیے، کیوںکہ جذباتی کیفیت اور مزاج سے آشنائی کے بغیر سیف کنٹرول کی کمی کو پورا کرنا مشکل ہے۔سیلف کنٹرول جیسی نایاب خوبی کو اپنانے کا عزم کر ڈالیے، بڑے مقصد بنائیے اور چھوٹے سے آغاز کر کے خود پر آہستہ آہستہ اپنا کنٹرول بڑھائیے۔یاد رکھیں اصل سیلف کنٹرول یہ ہے کہ ہماری نفسانی خواہشات خالق کی مرضی کے تابع ہوجائیں، اس کی ناراضی کا خدشہ جس میں ہو فوراً اسے روک دیا جائے، اور ہماری اس طلب وکوشش کی بدولت ہمیں رب کی رضامندی اور قرب الہی حاصل ہوجائے۔ اس طرح ہماری زندگی کا مقصد اور ہمیں اصل کام یابی مل جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.