کند ذہن بچوں کوذہانت کے معیار پر نہ پرکھیں

ایک عام رویہ ہے کہ گھرمیں یا باہر ایسے بچے جو پڑھائی میں کمزورہوتے ہیں اور اکثر فیل ہوجاتے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اور ایک ہی گھر میں تمام بچے اچھے نمبروں سے پاس ہوجائیں اورایک بچہ فیل ہونے پر اسی جماعت میں رہ جائے تو اس کا مقابلہ دیگر بچوں سے کیا جاتا ہے جوکہ ایک بڑی ناانصافی ہے۔ اس طرح کے بچوں کوکند ذہن کہا جاتا ہے۔یہ بات تو طے شدہ ہے کہ ہرانسان دوسرے سے ہر لحاظ سے مختلف ہوتا ہے اور اس میں جو صفات پائی جاتی ہیں وہ بھی الگ ہوتی ہیں، ہوسکتا ہے ایک بچہ پڑھائی میں اچھا نہ ہو لیکن وہ کسی ہنرمیں ماہر ہو صرف تعلیم کے ساتھ موازنہ کرنا بے وقوفی ہے۔کند ذہن ہونےکی کئی وجہ ہوسکتی ہیں، ان میں پیدائشی نقص یعنی کسی غدود کا دماغ میں بن جانا اورپیدائش کے وقت دماغ پر کسی قسم کی چوٹ لگ جانا شامل ہیں، لیکن بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں نہ ہی ان بچوں کے ذہنی نقص کی تشخیص کی جاتی ہے اور نہ ہی تسلیم۔ کم ذہنی صلاحیت رکھنے والا بچہ کا تعلق ایک پسماندہ ادنیٰ گھرانے سے بھی ہوسکتا ہے اور کسی امیرتعلیم یافتہ گھرانے سے بھی۔ترقی یافتہ ممالک میں ان بچوں کا نہ صرف طبی معائنہ کیا جاتا ہے بلکہ ان کے علحیدہ اسکول بھی موجود ہوتے ہیں جہاں ماہرنفسیات ان کی تعلیم کے ساتھ دیگر ہنر بھی سکھاتے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں معاشرے پر بوجھ بننے کے بجائے ایک کارآمد فرد ثابت ہوسکیں۔ماہر تعلیم کے مطابق ان بچوں میں سیکھنے کا عمل قدرے سست ہوتا ہے لیکن مسلسل محنت سے یہ بہت سیکھ جاتے ہیں۔ یہ دیکھنے میں بلکل نارمل لگتے ہیں لیکن کسی بھی علم یا ہنر کو سیکھنے میں کافی وقت لیتے ہیں۔کم ذہانت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ایسے بچے بڑے ہوکر کامیاب زندگی نہیں گزار سکتے، اگر ان بچوں کی بہترتربیت کی جائے تویہ سادہ کام آسانی سے سمجھ لیتے ہیں اور پھر اسی کو جاری رکھیں تو کسی حد اس کے ماہر بھی بن جاتے ہیں۔یہاں پروالدین کا کردارسب سے اہم ہے اگروہ اپنا فرض صحیح طرح سے ادا کریں توایسے بچے بھی دنیا میں بہتر زندگی گزارسکتے ہیں اکثر والدین بچے کو اسکول سے اس لئے نکال دیتے ہیں کہ وہ پڑھائی میں کمزور ہوتے یا فیل ہوجاتے ہیں، اورانہیں کسی گھریلوکام کاج میں لگا دیتے ہیں جو کہ غلط رویہ ہے اس طرح یہ بچے گھر میں رہ کر ڈسپلین نہیں سیکھ پاتے، کوشش کریں کہ انہیں اسکول کے ساتھ گھرپربھی توجہ دیں اورحد درجہ محبت کا رویہ رکھیں تاکہ ان میں کسی قسم کی محرومی یا اعتماد کی کمی نہ رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.