سائنس کے مُطابق ضرورت سے زیادہ سردی لگنے کی اہم وجوہات

موسم سرما میں سردی لگنا ایک عام بات ہے لیکن اگر یہ سردی ضرورت سے زیادہ لگ رہی ہے اور آپ کو اس سے نپٹنے کے لیے زیادہ کپڑے پہننے پڑ رہے ہیں اور گرم جگہ پر بیٹھنے کے باوجود اگر آپ کے ہاتھ پاؤں گرم نہیں ہو رہے تو اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن پر دھیان دینا ضروری ہے۔ ضرورت سے زیادہ سردی لگنے کی چند اہم وجوہات کا ذکر کیا جائے گا جنہیں پڑھنے کے بعد آپ جان پائیں گے کہ آپ کو سردی زیادہ کیوں لگتی ہے اور اس کے لیے آپ کو کیا کرنا چاہیے۔تھائیرائیڈ گلائینڈ گردن کے نیچے گلے میں موجود ہوتا ہے اور یہ ایسے ہارمونز پیدا کرتا ہے جو ہمارے میٹابولیزم کو کنٹرول کرتے ہیں، اس کے علاوہ بھی یہ گلائینڈ جسم میں کئی اہم افعال سرانجام دیتا ہے جیسے کہ سانس کو کنٹرول کرنا، دل کی دھڑکن، جسمانی وزن، کولیسٹرال لیول وغیرہ وغیرہ اور ان افعال کے ساتھ اس کا ایک اہم کام ہمارے جسم کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنا بھی ہوتا ہے۔ہمارے خُون میں آئرن کی کمی بھی ہمارے جسم کا درجہ حرارت کم کرنے کا باعث بنتی ہے کیونکہ آئرن کی کمی سے خُون کے سُرخ خُلیے ٹھیک طرح کام نہیں کر پاتے اور نتیجتاً ہمارے جسم کا درجہ حرارت کم ہوجاتا ہے ایسی صُورت میں آئرن سے بھر پُور کھانے جیسے سُرخ گوشت سبز پتوں والی سبزیاں، آلو اور فروٹس کھانے سے اس کمی کو پُورا کیا جاسکتا ہے اسکے علاوہ آئرن سپلیمنٹ کھانے سے بھی یہ کمی پُوری کی جاسکتی ہے۔زیادہ سردی لگنے کی ایک بڑی وجہ ہماری خوراک ہے اگر آپ خوراک میں ایسے کھانوں کا استعمال کرتے ہیں جن کی تاثیر گرم ہے جیسے خُشک میوہ جات، مچھلی، اناج اور گرم مشروبات وغیرہ تو یہ ہمارے جسم کے درجہ حرارت کو بڑھاتے ہیں لیکن اگر آپ ایسے کھانے کھاتے ہیں جو ٹھنڈے ہیں جیسے آئسکریم، سبزیاں یا ٹھنڈے ڈرنکس تو وہ ہمارے جسم کا درجہ حرارت کم کرنے اور سردی لگنے کا باعث بنتے ہیں۔سردیوں میں عام طور پر زیادہ پیاس نہیں لگتی اور لوگ پانی پینے پر توجہ بھی نہیں دیتے اور اسی لیے پانی کی کمی کا شکار ہوجاتے ہیں، پانی کی کمی سے ہمارا میٹا بولیزم کمزور ہوتا ہے اور ہمارا جسم مناسب توانائی اور حرارت پیدا کرنا بند کر دیتا ہے اور نتیجتاً ہمیں زیادہ سردی لگتی ہے اس لیے گرم ہو یا سردی روزانہ کم از کم 8 گلاس پانی ضرور پینا چاہیے۔ان دونوں حالتوں میں بھی سردی زیادہ لگنی شروع ہو جاتی ہے کیونکہ ذہنی تناؤ اور ضطراب سے دماغ کے وہ حصے جو جسم کو خطرے کی حالت میں مطلع کرتے ہیں بیدار ہوجاتے ہیں اور مسلسل بیدار رہتے ہیں، مسلسل متحرک رہنے کے لیے اُنہیں زیادہ حرارت کی ضرورت ہوتی اور وہ یہ حرارت جسم کے باقی حصوں سے حاصل کر کے اُن حصوں کے درجہ حرارت میں کمی کا باعث بنتے ہیں چنانچہ ہمیں سردی لگنا شروع ہو جاتی ہے۔عُمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہمارے جسم کا اعضا کمزور پڑتے جاتے ہیں خاص طور پر ساٹھ سال کی عُمر کے بعد ہمارا میٹابولیزم کمزور ہوجاتا ہے اور ہمیں سردی زیادہ محسوس ہونی شروع ہو جاتی ہے ایسے موقع پر خوراک اور ماحول کا خاص خیال رکھنا بہت ضروری ہو جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.