نائی کی چالاک بیوی اور سات چوروں کی کہانی

نائی کی چالاک بیوی اور سات چوروں کی کہانی

رانے زمانے کا قصہ ہے کہ ایک ایسا بے وقوف سا نائی تھا جو کوئی کام سیدھا نہیں کر سکتا تھا۔ حتی کہ بال کاٹتے وقت وہ کان کاٹ دیتا تھا اور حجامت کرتے وقت گلا۔ نتیجہ یہ کہ اس کا کام ٹھپ ہوتا گیا اور وہ اپنی چیزیں بیچ کر گزارا کرنے پر مجبور ہو گیا۔ رفتہ رفتہ ایسا وقت آیا کہ اس کے گھر میں صرف دو چیزیں باقی بچیں، اس کا استرا اور اس کی بیوی، اور یہ فیصلہ کرنا دشوار تھا کہ ان میں سے زیادہ تیز کون ہے۔

ایک دن نائی کی بیوی اسے بے وقوفیوں پر طعنے دے رہی تھی کہ وہ بے بسی سے بولا ”یہ سب بار بار کہنے کا کیا فائدہ ہے؟ میں تم سے متفق ہوں، میں نے کبھی خود سے کچھ نہیں کمایا، میں کبھی خود سے کچھ نہیں کما سکتا، اور میں کبھی کسی کو کمانے بھی نہیں دوں گا۔ یہ حقیقت ہے“۔

”تم کام نہیں کر سکتے تو بھیک مانگو۔ میں بھوکا نہیں مرنا چاہتی۔ بادشاہ کے محل میں جا کر اس سے کچھ مانگو۔ شہزادی کی شادی ہو رہی ہے اور بادشاہ غریبوں میں خیرات بانٹ رہا ہے، بادشاہ کو کہو کہ تمہیں کچھ بھی دے دے“۔

نائی نے ایسا ہی کیا اور بادشاہ کے محل میں جا کر اس سے کہا کہ وہ نائی کو کچھ بھی دے دے۔
”کچھ بھی؟ کیا دوں؟ “ بادشاہ نے پوچھا۔

اب نائی کی بیوی نے یہ تو نہیں بتایا تھا کہ اسے کیا مانگنا چاہیے اور نائی کا اپنا دماغ کچھ سوچنے سے قاصر تھا۔ اس نے پریشان ہو کر کہا ”کچھ بھی دے دیں“۔
”کچھ زمین دے دوں؟ “ بادشاہ نے پوچھا۔
نائی کی جان میں جان آئی کہ وہ کچھ بھی کے مسئلے سے نکلا۔ وہ بولا ”ہاں کوئی بھی زمین دے دیں“۔

بادشاہ نے اسے شہر سے باہر ایک اجڑی پجڑی زمین دینے کا حکم دے دیا۔ نائی گھر واپس پہنچا تو بیوی نے پوچھا ”تمہیں کیا ملا ہے؟ جلدی دو تاکہ میں روٹی خرید کر لاؤں“
نائی نے زمین کا بتایا تو وہ آگ بگولا ہو گئی اور اسے خوب ڈانٹا کہ ایسی غیر آباد زمین ہمارے کس کام کی۔ نائی بولا ”لیکن زمین تو زمین ہے، وہ کہیں نہیں جائے گی اور ہمارے پاس ہمیشہ رہے گی“۔

”کیا تم سے زیادہ بے وقوف کوئی دوسرا ہے؟ زمین کا کیا فائدہ اگر ہم اس میں کاشت نہ کر سکیں؟ کیا تمہارے پاس ہل چلانے کے لئے بیل ہیں؟ “ بیوی غرائی۔

نائی منہ لٹکا کر بیٹھ گیا مگر چالاک بیوی سوچنے لگی کہ کیا کرے۔ آخر اس نے ایک منصوبہ بنایا اور نائی کو لے کر اپنی زمین پر چلی گئی۔ اس کے بعد اس نے نائی کو کہا کہ وہ بھی اس کی نقل کرے اور خود غور سے جگہ جگہ زمین کو دیکھنے لگی، مگر جیسے ہی کوئی آدمی ان کے قریب آتا تو وہ ایسے بیٹھ جاتی جیسے کچھ بھی نہ کر رہی ہو۔

اس زمین کے قریب ہی جنگل میں سات چور رہتے تھے۔ وہ سارا دن دیکھتے رہے کہ نائی اور اس کی بیوی چھپ چھپ کر زمین پر کچھ تلاش کر رہے ہیں۔ شام ڈھلے ایک چور نائی کے پاس گیا اور اس سے پوچھنے کی کوشش کرنے لگا کہ اسے کس چیز کی تلاش ہے۔

نائی کی بیوی نے پہلے تو کچھ دیر ٹال مٹول کی پھر گویا تھک ہار کر کہنے لگی ”یہ زمین میرے دادا کی ہے، انہوں نے یہاں اشرفیوں کی پانچ دیگیں دفن کی تھِیں مگر ہمیں ان کی صحیح جگہ بتانے سے پہلے ہی فوت ہو گئے۔ اب ہم وہ دیگیں تلاش کر رہے ہیں۔ تم کسی کو یہ بات مت بتانا ورنہ وہ دیگیں تلاش کر کے لے جائے گا اور ہم محروم رہ جائیں گے“۔

چور نے وعدہ کیا کہ وہ کسی کو نہیں بتائے گا مگر شام ڈھلے جب نائی اور اس کی بیوی گھر واپس گئے تو چور اپنے ساتھیوں کو لے آیا اور ساتوں مل کر اپنے بیلوں سے ہل چلا چلا کر خزانہ تلاش کرنے لگے۔ صبح تک کھیتوں کی ایسی حالت ہو گئی جیسے اس میں سات مرتبہ ہل چلا دیا گیا ہو مگر انہیں وہاں کچھ نہ ملا۔

اگلی صبح نائی کی بیوی نے سارے کھیتوں میں ہل چلا دیکھا تو بہت خوش ہوئی۔ وہ بیج ادھار لائی اور زمین میں بو دیے۔ ہل بہت اچھا چلا تھا تو فصل بھی بہت اچھی ہوئی۔ نائی کی بیوی نے تمام قرضے چکا دیے اور پھر بھی اتنے پیسے بچ گئے کہ اس نے کچھ سونا خریدا اور ایک مٹکے میں چھپا دیا۔

چوروں نے یہ دیکھا تو بہت غصے میں آئے۔ وہ نائی کے گھر گئے اور اسے کہنے لگے ”ہمیں فصل میں سے ہمارا حصہ دو کیونکہ ہل ہم نے چلایا تھا“۔
نائی کی بیوی ہنسی ”میں نے تمہیں بتایا تو تھا کہ زمین میں سونا ہے لیکن تمہیں وہ نہیں ملا۔ اب وہ سونا گھر میں ایک مٹکے میں چھپایا ہوا ہے لیکن تمہیں نہیں ملے گا“۔

چوروں نے کہا ”تم سیدھے طریقے سے ہمارا سونا ہمیں نہیں دو گے تو ہم خود لے لیں گے۔ آج رات دیکھ لینا“۔
نائی کی بیوی نے پھر انکار کیا اور چور واپس چلے گئے۔ لیکن ایک چور گھر میں چھپ گیا تاکہ رات کو وہ اپنے ساتھیوں کے لئے دروازہ کھول دے۔ نائی کی بیوی نے اپنی آنکھ کے گوشے سے اسے چھپتے دیکھ لیا۔

نائی چوروں سے بہت ڈرا ہوا تھا۔ اس نے اپنی بیوی سے پوچھا ”تم نے سونا کہاں چھپایا ہے؟ “
بیوی بولی ”ایسی جگہ چھپایا ہے کہ وہ کسی کو نہیں ملے گا۔ باہر کے دروازے کے ساتھ رکھے مٹکے میں مٹھائیوں کے نیچے چھپا دیا ہے۔ “

چور یہ سن کر بہت خوش ہوا۔ آدھی رات کو وہ اپنی کمین گاہ سے نکلا اور مٹکا لے کر چمپت ہو گیا۔ سب چور مل کر باہر جنگل میں پہنچے اور مال بانٹنے کی تیاری کرنے لگے۔ مٹکا لانے والا چور کہنے لگا ”نائی کی بیوی نے بتایا تھا کہ سونے کے اوپر مٹھائیاں رکھی ہیں تاکہ کسی کو شبہ نہ ہو۔ پہلے مٹھائی بانٹ کر کھا لیتے ہیں پھر سونا بانٹتے ہیں“۔

جنگل میں گھپ اندھیرا تھا۔ چوروں نے مٹکے میں سے ٹٹول ٹٹول کر مٹھائیاں نکالیں اور کھانے کو منہ میں ڈالیں اور ساتھ ہی تھو تھو کر کے تھوکنے لگے۔ نائی کی بیوی نے مٹکے میں مٹھائی کی بجائے اپلے ڈال رکھے تھے۔

سب چوروں کو بہت غصہ چڑھا۔ اگلی صبح وہ نائی کے گھر پہنچے اور فصل میں سے اپنا حصہ مانگنے لگے۔ نائی کی بیوی ان کی شکلیں دیکھ کر ہنسنے لگی تو وہ بولے ”تم نے دو مرتبہ ہمیں بے وقوف بنایا ہے۔ اب تمہاری باری ہے“۔ یہ کہہ کر وہ تنتناتے ہوئے چلے گئے۔

جاتے جاتے ایک چور دوبارہ ایک کونے میں چھپ گیا اور نائی کی بیوی نے اس مرتبہ بھی اسے چھپتے دیکھ لیا۔ نائی نے پھر پریشان ہو کر پوچھا ”تم نے سونا کہاں چھپایا ہے؟ گدے کے نیچے تو نہیں چھپا لیا؟ “

نائی کی بیوی نے اسے تسلی دی ”میں اتنی بے وقوف نہیں ہوں۔ سونا محفوظ ہے۔ میں نے اسے باہر نیم کے درخت کی اونچی شاخوں میں ایک پوٹلی میں باندھ کر چھپا دیا ہے۔ “
چور یہ سن کر بہت خوش ہوا۔ رات کو جب سب سو گئے تو وہ اپنی کمین گاہ سے نکلا اور اس نے اپنے ساتھیوں کو بتایا۔ سب چور نیم کے درخت کے نیچے جمع ہو کر اوپر دیکھنے لگے تو کچھ غور کرنے پر اوپر درخت پر ایک پوٹلی بندھی دکھائی دی۔

چوروں کا سردار بولا ”واقعی اوپر پوٹلی بندھی ہوئی ہے۔ ایک آدمی اوپر چڑھے اور اسے اتار لائے“۔ ایک چور نے قمیض اتاری، کس کر دھوتی باندھی اور اوپر چڑھنے لگا۔

اب ہوا یہ تھا کہ نیم کے درخت پر شہد کی مکھیوں نے ایک چھتا بنا رکھا تھا۔ جب چور چھتے کے قریب پہنچا اور اس نے ہاتھ آگے بڑھایا تو شہد کی ایک مکھی نے زور سے اس کی ران پر ڈنک مار دیا۔ چور نے تکلیف سے پریشان ہو کر بے ساختہ اپنی ران پر ہاتھ مارا۔

”چور کہیں کے۔ تم پوٹلی نیچے اتارنے کی بجائے اس میں سے سونا نکال کر اپنی جیب میں بھر رہے ہو۔ “ نیچے کھڑے چور چلائے۔ اندھیرے کی وجہ سے باقی سب چوروں کو یہی لگا تھا۔

”میں ایسا کچھ نہیں کر رہا ہوں۔ درخت پر کچھ ہے جو مجھے چبھ رہا ہے“۔ درخت پر چڑھے چور نے کہا۔ اسی وقت ایک دوسری مکھی نے اس کے سینے پر ڈنک مارا۔ چور نے سینے پر ہاتھ مار کر اسے الگ کرنا چاہا۔ نیچے کھڑے چور چلانے لگے ”ہم نے دیکھ لیا ہے۔ تم سونا چھپا رہے ہو“۔

انہوں نے ایک دوسرا چور اوپر بھیجا مگر اب شہد کی مکھیاں مشتعل ہو چکی تھیں۔ انہوں نے اس چور کے جسم پر کاٹنا شروع کیا تو وہ بے اختیار اپنے جسم پر جگہ جگہ ہاتھ مارنے لگا۔ باقی چوروں کو بہت غصہ چڑھا کہ وہ دوسرا چور بھی بے ایمان نکلا اور سونا چھپا رہا ہے۔

سب چور ایک ایک کر کے اوپر چڑھتے گئے اور ہر ایک کے ساتھ یہی ہوا۔ آخر سردار کی باری آئی۔ اس نے چھتے کو مضبوطی سے پکڑا ہی تھا کہ وہ شاخ جس پر سب کھڑے تھے، وزن برداشت نہ کرتے ہوئے ٹوٹ گئی اور سب نیچے جا گرے۔ چھتا ان کے اوپر گرا اور مکھیاں ان پر ٹوٹ پڑیں۔ سب چور جان بچا کر بھاگے۔

اس کے بعد کئی دن سکون رہا کیونکہ چور اس قابل نہ تھے کہ چل پھر سکتے۔ نائی اور اس کی بیوی سوچنے لگے کہ شاید اب چور انہیں دوبارہ تنگ نہیں کریں گے۔ لیکن وہ غلط تھے۔

ایک رات جب وہ کمرے کی کھڑکی کھول کر سوئے ہوئے تھے تو نائی کی بیوی کی آنکھ سرگوشیوں کی آواز سے کھل گئی۔ چوروں کی آواز پہچان کر اس کے ہوش اڑ گئے اور اس نے سوچا کہ اب بچنا مشکل ہے۔ لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور نائی کا استرا پکڑ کر کھڑکی کے ساتھ چھپ کر کھڑی ہو گئی۔

پہلے چور نے آہستہ آہستہ سر اندر کیا اور اندھیرے کمرے کے اندر جھانکنے کی کوشش کی۔ نائی کی بیوی نے استرے والا ہاتھ گھمایا اور چور کی ناک کاٹ ڈالی۔
”خدایا، میری ناک کسی چیز سے لگ کر کٹ گئی ہے۔ “ چور تکلیف سے چلایا۔

”خاموش۔ تم سب کو جگا دو گے۔ چپ کر کے اندر جاؤ“۔ باقی چوروں نے اسے آہستہ آواز میں ڈانٹا۔
”نہیں میں نہیں جاؤں گا۔ میری ناک سے بہت خون بہہ رہا ہے“، چور کراہا۔

”بزدل۔ تمہاری ناک کھڑکی کے پٹ سے ٹکرا کر زخمی ہو گئی ہے اور تم رو پیٹ رہے ہو۔ میں اندر جاتا ہوں“۔ دوسرے چور نے کہا اور کھڑکی کی طرف بڑھا۔
جیسے ہی اس نے سر اندر کیا تو نائی کی بیوی نے اپنا استرا چلا دیا اور اس کی ناک بھی کٹ کر جا گری۔

”خدایا، اندر واقعی کوئی تیز چیز ہے“۔ چور تکلیف سے چیخا۔
”بانس کی کوئی کھانچ نکلی ہو گی۔ تم ایک طرف ہو، میں دیکھتا ہوں“ تیسرے چور نے کہا اور اپنا سر کھڑکی سے اندر ڈالا۔
شڑپ۔ اس کی ناک بھی کٹ کر دور جا گری۔ ”افف۔ واقعی کوئی تیز چیز ہے۔ مجھے تو ایسا لگا جیسے کسی نے میری ناک کاٹ ڈالی ہو“۔ تیسرا چور پیچھے ہٹتے ہوئے کراہا۔

”بے وقوفو تم بزدل ہو۔ مجھے اندر جانے دو“ چوتھے چور نے کھڑکی میں سر ڈالا اور ناک کٹوا بیٹھا۔ پانچویں اور چھٹے چور کے ساتھ بھی یہی ہوا اور سردار کی باری آ گئی۔
”ساتھیو تم سب زخمی ہو گئے ہو۔ ایک آدمی کو ٹھیک رہنا چاہیے تاکہ وہ سب زخمیوں کی حفاظت اور تیمار داری کرے۔ کسی اگلی رات واپس آتے ہیں“ سردار نے کہا۔ سب چور واپس پلٹ گئے۔

نائی کی بیوی نے چراغ جلایا اور تمام چوروں کی ناکیں ایک ڈبی میں جمع کر لیں۔
چند دن سکون سے گزرے۔ موسم خوب گرم ہو گیا اور کمرے کے اندر سونا ممکن نہیں رہا تو نائی اور اس کی بیوی نے باہر صحن میں چارپائیاں بچھا لیں۔

چور واپس آئے۔ انہوں نے سوچا کہ سونا ضرور نائی کی بیوی کے پاس ہے، تو اسے ہی اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ وہ دبے قدموں آگے بڑھے اور اس کی چارپائی اپنے کندھوں پر اٹھا کر جنگل میں اپنے ٹھکانے کی طرف چل پڑے۔

کچھ دیر بعد نائی کی بیوی کی آنکھ جھکولے کھانے سے کھل گئی اور یہ جان کر وہ دھک سے رہ گئی کہ چور اس کی چارپائی اٹھا کر جنگل کی طرف جا رہے ہیں۔ وہ سوچنے لگی کہ اب میں کیسے بچوں۔

کچھ دیر بعد چور تھک گئے۔ وہ ایک گھنے برگد کے نیچے رکے اور مشورہ کرنے لگے کہ کچھ دیر یہاں رکتے ہیں اور چارپائی نیچے رکھ کر کمر سیدھی کر لیتے ہیں۔ نائی کی بیوی نے موقع غنیمت جانا۔ اس نے تکیوں کے اوپر چادر ایسے ڈالی کہ لگتا تھا کہ وہ بستر پر لیٹی ہے اور برگد کی ایک لٹکتی جٹا کو پکڑ کر اوپر چڑھ گئی اور شاخوں میں چھپ گئی۔

چوروں نے چارپائی کاندھوں سے اتار کر نیچے زمین پر رکھ دی اور فیصلہ کرنے لگے کہ پہرے کی پہلی باری کس کی ہو گی۔ سردار کے نام کا قرعہ نکلا کیونکہ باقی سب ابھی تک ناک کے زخموں کی وجہ سے تکلیف میں تھے۔ سب چور سو گئے اور سردار پہرہ دینے لگا۔

نائی کی بیوی کو اچانک ایک خیال سوجھا۔ اس نے اپنا سفید دوپٹہ چہرے اور سر کے گرد لپیٹا اور آہستہ آواز میں محبت بھرے گانے گانے لگی۔ چوروں کے سردار نے اوپر دیکھا تو اسے چاندنی میں ایک خوبصورت عورت درخت پر بیٹھی دکھائی دی۔

اس نے سوچا کہ یہ ضرور درخت کی پری ہے جو مجھ جیسے خوش شکل اور ہینڈسم مرد پر عاشق ہو گئی ہے۔ اس نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیا اور پوچھا ”کون ہو تم؟ حسینہ نیچے زمین پر اترو، مجھ سے خوف مت کھاؤ“

پری نے جواب نہیں دیا اور عاشقانہ گانے دھیمے سروں میں گاتی رہی۔ سردار نے یہ دیکھا تو خود درخت پر چڑھنے لگا۔ جب وہ پری کے قریب پہنچا تو پری نے ایک سرد آہ بھری اور منہ دوسری طرف پھیر لیا۔

”اتنا اداس ہونے کی کیا بات ہے اے پری؟ “ سردار نے بے تاب ہو کر پوچھا۔
نائی کی بیوی نے اداس لہجے میں کہا ”مجھے لگتا ہے کہ تم ایک ہرجائی ہو اور مجھ سے محبت نہیں کرتے۔ لمبی ناک والے مرد ہمیشہ ہرجائی ہوتے ہیں“۔

سردار نے اسے اپنی وفا کا یقین دلانے کی بہت کوشش کی مگر وہ نہ مانی۔ آخر نائی کی بیوی نے کہا ”ایسا کرو کہ اپنی زبان کو لمبا سا باہر نکالو۔ میں اسے اپنی زبان سے چھو کر جان لوں گی کہ یہ زبان سچ بول رہی ہے یا جھوٹ“۔

چوروں کے سردار نے مخمور ہو کر اپنی زبان خوب باہر نکالی، پری اس کے قریب ہوئی اور اس کی زبان کو زور سے اپنے دانتوں سے کاٹ کر دو ٹکڑے کر دیا۔ سردار تکلیف کی شدت سے زور سے چیخا اور درخت سے نیچے جا گرا۔

”کیا ہوا؟ کیا ہوا؟ “ دوسرے چور جاگ گئے۔ ”بل بل بل۔ ۔ ۔“ سردار نے اوپر درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ وہ زبان کٹنے کی وجہ سے بولنے سے قاصر ہو چکا تھا۔
”سردار پر جادو ہو گیا ہے۔ درخت پر ضرور کوئی آسیب ہے“ چور گھبرا کر بولے۔

اسی وقت نائی کی بیوی نے اپنی سفید چادر لہرانی شروع کر دی اور منہ سے خوفناک آوازیں نکالنے لگی۔
چوروں کی خوف سے جان نکل گئی۔ انہوں نے بدحواس ہو کر اپنے سردار کو کندھوں پر اٹھایا اور اپنے گھر کی طرف بھاگنے لگے۔
وہ دور نکل گئے تو نائی کی بیوی نے اپنی چارپائی سر پر اٹھائی اور اپنے گھر کی طرف واپس چل پڑی۔

سردار کی زبان کا زخم کچھ ٹھیک ہوا تو اس نے تتلا تتلا کر اور اشارے کر کے بتایا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ چور اب اپنی ناکیں اور زبان کٹوا کر اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ نائی کی چالاک بیوی سے مقابلہ کرنا ان کے بس میں نہیں ہے۔

وہ بادشاہ کے پاس چلے گئے اور اس سے انصاف طلب کیا کہ وہ نائی سے انہیں ان کی محنت کا معاوضہ دلوا دے۔ لیکن نائی کی بیوی نے اپنا مقدمہ پیش کیا اور ثبوت کے طور پر چوروں کی ناکیں پیش کیں۔

بادشاہ نے چوروں کو جیل میں ڈال دیا اور نائی کو اپنا وزیراعظم بنا دیا۔ اس نے کہا کہ ”جب تک اس نائی کے سر پر اس کی عقلمند بیوی کا سایہ سلامت ہے، یہ کوئی احمقانہ کام نہیں کر سکتا اور ہمیں اس سے بہتر وزیراعظم نہیں ملے گا“۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.