بہادری کا تمغہ حاصل کرنے والا چوہا چل بسا

بہادری کا تمغہ حاصل کرنے والا چوہا چل بسا

پانچ سالہ کیرئیر میں کمبوڈیا میں سیکڑوں بارودی سرنگیں تلاش کرکے انسانی جانیں بچانے والا گولڈ میڈلسٹ چوہا 8 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگیا۔

بارودی سرنگوں کا پتہ لگانے کےلیے کتے کو تربیت دی جاتی ہے جس پر لاکھوں ڈالرز خرچہ ہوتا ہے جو غریب ممالک کےلیے مشکل ہے، افریقی تنظیم نے بھاری خرچے سے بچنے کےلیے اپوپو نامی تنظیم نے چوہوں کو سرنگیں سونگھنے کیلئے استعمال کرنا شروع کیا جو کارمد ثابت ہوا۔

اب تک چوہوں کی مدد سے کئی افریقی ممالک میں سیکڑوں سرنگیں تلاش کرکے ہزاروں انسانوں جانیں بچائی جاچکی ہیں۔

بارودی سرنگیں تلاش کرنے والوں میں ‘ماگاوا’ نامی چوہا کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں جس نے پانچ سالہ دور ملازمت میں درجنوں سرنگیں تلاش کیں اور اپنی بہاردی پر گولڈ میڈل بھی حاصل کیا۔

تنزانیہ میں بارودی سرنگیں تلاش کرنے والے چوہے

ماگاوا کی بہادری کا اعتراف کرتے ہوئے اسے 2020 میں تمغے سے نوازا گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق دھماکا خیز مواد کے اندر کیمیائی کمپاؤنڈ کا پتہ لگانے کے لیے تربیت یافتہ، ماگاوا نے ایک لاکھ 41 ہزار مربع میٹر سے بھی زیادہ زمین کو چیک کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.