’ہمیں بابر کی کپتانی سے نہیں، ان کی بیٹنگ سے پریشانی ہونی چاہیے‘

بابر اعظم کو تمام فارمیٹس میں کپتان بنے ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ان کا اب تک کا سفر کیسا گزرا؟ :(Khuda Ki Basti)

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ کپتانی کے مقابلے میں بہت بہتر کھلاڑی ہیں۔ اگرچہ بابر ٹیسٹ کرکٹ میں اب تک اپنے جوہر نہیں دکھا پائے ہیں اور شاذ و نادر ہی کُھل کر بیٹنگ کرسکے ہیں مگر محدود اوورز کی کرکٹ کو وہ بہت اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اور اس کے رنگ کو زبردست طریقے سے اپنا چکے ہیں۔

تاہم ان کے کارناموں کے آگے یہ شکایتیں بہت ہی معمولی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ ایک اچھے کپتان ہیں، جس کا اندازہ ان کی موجودہ طرزِ قیادت سے لگایا جاسکتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ وہ اور بھی بہتر کپتان بن کر سامنے آئیں گے۔

ہمیں یاد ہے جب رکی پونٹنگ کو کپتان بنایا گیا تھا تو بہت سوں کو یہ غیر سنجیدہ فیصلہ لگا تھا۔ چند لوگوں نے ان سے توقعات بھی وابستہ کیں۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ سابق آسٹریلوی کپتان اسٹیو وا کی راہ پر چلنے کی جی جان سے کوشش کر رہے تھے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ پونٹنگ افسوس کے ساتھ اس جارج ڈبلیو بش کی طرح نظر آئے، جو 20ء کی دہائی کے وسط میں شاید ہی کسی کی آنکھ کا تارا رہے ہوں۔

آسٹریلوی ٹیم ان کی زیرِ کپتانی اپنی پہلی ایشز سیریز میں ناکامی سے دوچار ہوئی۔ دو دہائیوں میں پہلی بار آسٹریلیا کو اس سیریز میں شکست ہوئی تھی۔ ابتدا میں زوال کے بعد بہت سے نقادوں نے پونٹنگ پر کڑی تنقید شروع کردی، لوگوں نے کہنا شروع کردیا: یہ آدمی ایک اچھا کپتان نہیں ہے۔

تاہم آگے چل کر ان کی کپتانی میں آسٹریلوی ٹیم نے سب سے زیادہ ٹیسٹ فتوحات حاصل کیں۔ یہ اعزاز گریم اسمتھ کو بھی حاصل نہیں ہے (ستم ظریفی یہ ہے کہ گریم اسمتھ کو جب کپتانی سونپی گئی تھی تب ان کا استقبال بھی شکوک شبہات سے بھرپور نظروں نے کیا تھا)۔ آج یہ بڑی ہی خوشگوار حیرت کی بات ہے کہ بش جیسا نظر آنے والا شخص اب آسٹریلوی کمنٹری باکسز کو دانشوری اور بردباری بخشتا ہے جو ان باکسز میں ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔

بلاشبہ بابر کو ان سے تشبیہہ دینا ٹھیک نہیں ہوگا۔ بابر کو نوجوان پونٹنگ کی طرح نظم و ضبط سے جڑے مسائل پر قابو پانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ پونٹنگ کو شین وارن، گلین مک گراتھ، ایڈم گلکرسٹ، جسٹن لینگر اور میٹھیو ہیڈن جیسی بھاری بھرکم شخصیات کی قیادت کرنی پڑتی تھی۔ دوسری طرف بابر ایک ایسی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں جن میں شامل اکثر کھلاڑیوں کی عمریں 20 کے پیٹے میں ہیں۔

تاہم رنز کے وزن اور ان کی ٹیموں میں شامل اگلے بہترین کھلاڑی کے معیار میں وسیع فرق کو دیکھیں تو یہ موازنہ بنتا ہے، کم از کم دونوں میں یہ بات تو مساوی ہے کہ پونٹنگ اور بابر نے بقول شخصے اپنی روایت شکنی کے باعث ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں میں احترام ضرور کمایا ہے۔ رنز اور احترام کی کمائی کسی بھی کپتان کے لیے ایک اچھا آغاز ثابت ہوسکتی ہے۔ حکمتِ عملی، زاویے اور انتظام کاری کا فن تو وقت کے ساتھ سیکھا جاسکتا ہے۔

اور بابر سیکھے گا۔ ٹیسٹ کرکٹ میں بابر کو یہ سیکھنا باقی ہے کہ دوسرے دن جب مخالف ٹیم ایک وکٹ کے نقصان پر 220 رنز بنا چکی ہو تو وکٹ کس طرح نکالی جاتی ہے، یا پھر چوتھے یا پانچویں دن جب مخالف ٹیم نے 5 وکٹوں کے نقصان پر 140 رنز بنا لیے ہوں تو میچ کو اپنے قابو میں کیسے لایا جاتا ہے، مطلب یہ کہ انہوں نے حالات کو پرکھنے کا فن ابھی تک نہیں سیکھا۔

محدود اوورز کی کرکٹ میں بابر پُرسکون رہنا بھی سیکھیں گے۔ عام طور پر ٹھنڈے مزاج کے حامل نظر آنے والے بابر کی آواز آسٹریلیا کے خلاف سیمی فائنل میں پریشر بڑھنے پر بہت ہی اونچی ہوگئی اور ہونٹوں کی حرکت سے اندازہ ہوتا تھا کہ نوبت دشنام طرازی تک پہنچنے لگی تھی۔

مگر ایم ایس دھونی، ڈیرن سیمی، این مورگن اور کین ولیمسن جیسے کپتانوں کی طرح ٹی20 میچ میں ٹیم کی قیادت کے دوران ہر دم محتاط رہنا بہت ہی ضروری ہوتا ہے: ایک ایسی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرنا ضروری ہے جو آپ کو مشکل صورتحال کے بیچ ایک قدم پیچھے ہٹ کر گہری سانس لینے اور صورتحال کو اپنے لیے بہتر بنانے کا موقع فراہم کرسکے۔ پاکستان کو اگر آئی سی سی ٹرافیاں جیتنی ہیں تو بابر کو اعصاب پر قابو پانے کا فن بھی سیکھنا ہوگا۔

اگرچہ بابر نے اس طرح کے ٹورنامنٹ میں اپنے پہلے تجربے میں بہت ہی اچھی کارکردگی پیش کی ہے لیکن ہمیں ان سے ضرورت سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہئیں۔ بلاشبہ انہوں نے رنز کے پہاڑ کھڑے کیے، ٹیم کو متحد رکھا، اور ایک ایسی ٹیم کی قیادت کی جو ایک ہی وقت میں خوفزدہ اور منظورِ نظر بھی تصور کی جاتی ہے، یقیناً ایسی صورتحال میں توازن قائم رکھنا آسان نہیں ہوتا۔

ڈریسنگ روم میں ان کی الوداعی تقریر ٹھیک ویسی ہی تسکین آمیز تھی جس کی ضرورت تھی، یہ الگ بات ہے وہ کھلاڑیوں سے زیادہ شائقین سے مخاطب محسوس ہوئے۔ بعداز میچ پریزنٹیشن میں جب بابر کو ‘ٹرننگ پوائنٹس’ سے متعلق ایک اہم سوال میں پھنسایا گیا تو ان کی جانب سے واشگاف الفاظ میں حسن علی کی حمایت کا اظہار ایک اہم امر تھا۔

اکستان کی جانب سے جب بابر اچھا کھیل رہے تھے، بلے کا اچھا استعمال کر رہے تھے اور موقع دیکھ کر بلے بازی کر رہے تھے مگر تیسرے یا چوتھے گیر سے نکلنے کا نام نہیں لے رہے تھے، اس کے نتیجے میں جب پہلے 10 اوورز میں 80 یا 90 رنز کے بجائے 71 رنز ہی بن پائے، کیا یہ میچ کا اہم موڑ قرار نہیں دیا جاسکتا؟

ٹی 20 کرکٹ میں بابر کی کپتانی سے زیادہ ان کی بلے بازی قابلِ تشویش ہے۔ بابر اعظم کا مختصر فارمیٹ میں پہلے نمبر پر آنے کا ٹی20 رینکنگ کے لیے مرتب کردہ شرائط میں خرابیوں سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا کہ بطور کھلاڑی ان کے ناقابلِ تردید معیار سے ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *