قومیں تب تباہ ہوتی ہیں جب چوری کو برا نہ سمجھا جائے:عمران خان

کامیاب نوجوان پروگرام کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام ہمارے منصوبوں میں سب سے زیادہ کامیاب ہوگا، 9سال کا تھا تو اپنی والدہ کے ساتھ لاہور اسٹیڈیم میں ٹیسٹ میچ دیکھنے گیا تھا، اپنی والدہ کو کہا کہ میں ٹیسٹ کرکٹر بننا چاہتا ہوں، سب نے مجھے کہا کہ تم ٹیسٹ کرکٹر نہیں بن سکتے، میں نے محنت کی غلطیوں سے سیکھا اور اللہ نے مجھے کامیابی عطا کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ شوکت خانم اسپتال بنانے لگا تو کہا گیا کہ اسپتال نہیں بن سکتا، پھر نمل یونیورسٹی بنائی تو کہا دیہات میں کوئی پڑھانے نہیں آئے گا، سیاست میں آیا تو 14سال تک میرا مذاق اڑایا گیا، لوگ کہتے تھے 2پارٹی سسٹم میں تیسری پارٹی نہیں آسکتی، پھر جب میں اقتدار میں آگیا تو کہا گیا کہ کامیاب نہیں ہوسکتے، کوئی بھی انسان آج تک محنت کیے بغیر کامیاب نہیں ہوا، کوئی بھی انسان شارٹ کٹ کے ذریعے کامیاب نہیں ہوسکتا، بڑی سوچ رکھنے والا شخص ہی بڑا آدمی بن سکتا ہے، کامیاب وہ شخص ہوتا ہے جو بڑی سوچ اور بڑا خواب رکھتا ہے اور پھر ہار نہیں مانتا، اپنی غلطیوں سے سیکھ کر انسان اوپر چلا جاتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کے ہاتھ میں اس ملک کا مستقبل ہے، انسان تب ہی کامیاب ہوتا ہے جب وہ برے وقت سے سیکھتا ہے، پاکستان سمیت پوری دنیا پر مشکل وقت آیا ہوا ہے، یہ سب کورونا کی وجہ سے ہوا، لیکن ہم پاکستانی معیشت کو بہتری کی طرف لے کر گئے، ہماری پالیسی کی تعریفیں دنیا میں دی گئیں، پاکستان میں پہلی بار گھر بنانے کیلئے حکومت سود کے بغیر قرضے دے گی، صحت انصاف کے ذریعے عوام 7 سے 10 لاکھ روپے تک کا علاج کسی بھی اسپتال میں کرواسکیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج کل ہر طرف ٹیپس نکل رہی ہیں، ججز کے نام آرہے ہیں، یہ سب ڈرامہ ہے، 25 سال پہلے جب سیاست میں آیا تھا تو کہا تھا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، جس ملک کے حکمران پیسہ چوری کریں وہ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، 2016 میں پاناما کیس آیا اس میں نوازشریف کانام بھی آیا، اور جب کیسز چلے تو نواز شریف نااہل ہوگئے، اور آواز آئی مجھے کیوں نکالا، آپ مجھے صرف اتنا بتا دیں کہ لندن میں 4 فلیٹ کہاں سے لئے، نواز شریف کو عدالت نے سزا دی اور وہ برطانیہ بھاگ گئے، مجھے افسوس ہے کہ ایک سزا یافتہ ملزم سے ایک کانفرنس میں تقریر کرائی گئی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ قوم تب تباہ ہوتی ہے جب چوری کو برا نہیں سمجھا جاتا، جس قوم کی اخلاقیات ختم ہوجائے یا ان میں اچھے برے کی تمیز ختم ہوجائے وہ قوم ختم ہوجاتی ہے، مدینہ کی ریاست کی بنیاد اخلاقیات پر رکھی گئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *