لوگ کیا کہیں گئے

لوگ کیا کہیں گئے ہم اس جملے کے ڈر سے اپنی ساری زندگی تباہ کر دیتے ہیں ۔لوگ کیا کہیں گئے اس ڈر سے ہم اپنا اور اپنے گھر والوں کا جینا مشکل کر دیتے ہیں ۔ہم اپنی بیٹی کو زیادہ تعلیم اس لیے نہیں دیتے کہ خاندان والے کیا کہیں گئے۔ہم اپنی شادیوں پر لوگوں کو خوش کرنے کے لئے لاکھوں روپے ادھار لے کر اڑا د یتے ہیں کہ لوگ با تیں کر یں گئے۔ہم اپنی مر ضی سے جی نہیں سکتے کے لوگ کیا کہیں گے اگر میں نے یہ کام کیا ۔ہمارے معاشرے میں نوجوان اس خوف سے خود کشی کر دیتے ہیں کے لوگ کیا کہیں گئے ،ان کے گھر والے ان کو ان کی مر ضی کے خلاف کام کرنے پر مجبور کر تے ہیں صر ف اور صرف اس لیے کہ لوگ کیا کہیں گے لو گوں میں ہماری عزت کیا رہے جائے گئی۔ہم صرف جھو ٹی شان و شو کت کے لیے اپنی 40 ،50 یا جتنی بھی زندگی ہے اس کو تبا ہ کر دیتے ہیں ۔
اگر ہم یہ سو چیں کے لو گوں کا کام صرف باتیں کرنا ہے تو یقین کریں ہماری زند گی اتنی پر سکون ہو جائے گی ۔ہم اپنی مر ضی سے زند گی گز ار سکیں گئے۔ ہم یہ تو کہتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ ہم سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو ہم یہ کیوں نہیں کہتے کہ کل کے دن اللہ پا ک کو کیا جواب دیں گے۔ہم دنیا میں اس قدر گم ہو چکے ہیں کہ ہمیں بس صرف اور صرف دنیا والوں کی فکر ہے۔اس کائنات کو بنانے والی کی ہم اپنی روز مرہ زندگی میں کتنی حکم عدولی کرتے ہیں کیا ہم نے یہ سو چا اللہ پاک کو کیا جواب دیں۔حالا نکہ ہمیں زند گی گزارنے کا طر یقہ ہمارے نبی ﷺ نے چودہ سو سال پہلے بتا دیا تھا۔
ایک دفعہ ایک شادی میں جانے کا اتفاق ہو ا جس گھر میں مجھے مد عو کیا گیا تھا وہ مالی لحا ظ سے تھو ڑے کمزور تھے لیکن پھر بھی ان نے مہمانوں کی آ و بھگت پر جو ش انداز میں کی لیکن جاتے ہوئے باتیں کرنے والے پھر بھی کر رہے تھے کھانا ٹھیک نہیں تھا،ہمیں بو تل نہیں ملی ۔پھراسی طر ح کچھ عر صے بعد ایک اور شادی میں جانے کا اتفاق ہوا جس میں عالی شان شادی کا انتظام تھا ۔دس سے بارہ کھانے کی ڈشز اور پا نچ قسم کا میٹھا تھا مگر وہاں بھی ایک بات میرے کانوں میں گو نج رہی تھی کہ پیسے کا ضیا ع کیا اس سے بہتر تھا کہ یہ کسی غر یب کی شادی کروا دیتے ۔اس دن میں نے دونوں شادیوں کا موزانہ کر کہ یہ نتیجا نکا لا کہ کچھ بھی ہو لوگ باتیں کرتے ہیں ،آپ صرف اپنی استطاعت کے مطا بق کام کریں ۔اللہ تعالی نے ہر انسان کو برابر کا رزق نہیں دیا کسی کوزیادہ اور کسی کو تھوڑا اگر تھوڑا ہے تو اس میں بھی اللہ کا شکر ادا کریں اور اگر زیادہ ہے تو اس میں بھی اللہ کا شکر ادا کر یں اور ساتھ ساتھ اس کی مخلوق کا بھی دھیان رکھیں اگر اللہ نے آپ کو استطاعت دی ہے اور آپ کا پڑ وسی بھو کا سوتا ہے تو یہ آپ کے پڑ و سی کی نہیں بلکہ آپ کی آزمائش ہے ۔
زند گی اللہ کا دیا ہوا بہت بڑا تحفہ ہے اس کو صر ف لوگوں کے خوف سے تباہ نہ کریں ۔ہم میں سے اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں دنیا کے ساتھ چلنے کےلیے دنیا کے طر یقے اپنانے پڑیں گے۔میرا سوال ہے کون سی دنیا کیسی دنیا ہمارے نبی پاک ﷺ کا ارشاد ہے “دنیا کی حثیثت ایک مچھر کے پر سے زیادہ کی نہیں ۔”لیکن پھر بھی ہم اس دنیا کو اپنا مستقل ٹھکانہ سمجھے لیتے ہیں ۔زندگی ایک نعمت ہے اور اس کو لوگ کیا کہیں گے پر ضا ئع مت کریں۔لوگ جو کہتے ہیں کہنے دیں بس آپ اپنی زند گی کو انجوائے کریں کیونکہ آپ کے بس میں نہیں ہے آپ ساری دنیا کو خوش کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *