اسلام میں بچوں کے حقوق

اسلام میں بچوں کے حقوق
اسلام میں بچوں کے حقوق

مولانا محمد الیاس گھمن
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو رحمت عطا فرمائی اس کا حصہ بچوں نے بھی پایا بلکہ”چھوٹے“ ہونے باوجود ”بڑا“ حصہ پایا۔ اگرچہ موضوع طویل ہے لیکن انتہائی اختصار و جامعیت سے چند باتیں لکھی جا رہی ہیں تاکہ یہ معلوم ہو کہ بچوں کے بارے قرآن و سنت سے ہمیں کیا رہنمائی ملتی ہے؟


:روزی دینا اللہ کے ذمہ ہے


اسلام نے کبھی بھی بھوک و افلاس کے خوف سے بچوں کی پیدائش پر سختی نہیں کی بلکہ قرآن کریم میں ایسا کرنے والوں کی پرزور طریقے سے حوصلہ شکنی کی گئی ہے اور انسان کو تسلی دی ہے کہ ان کے روزی کے اسباب ضرور اپنائے لیکن روزی کے خوف سے اولاد کو قتل نہ کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نیااحسان کرتے ہوئے ان کی اور ہماری روزی کا ذمہ خود لیا ہے اور اللہ رب العزت جس بات کو ااپنے ذمہ لے لیں تو اس میں پریشان اور مایوس نہیں ہونا چاہیے


:بچوں کی فطرت کا اسلامی ہونا

:بچوں کی فطرت کا اسلامی ہونا
:بچوں کی فطرت کا اسلامی ہونا


بچوں کی پیدائش کے بعد اب ان کی مذہبی تربیت کرنا بنیادی حقوق میں ہے اور بچے اس کو جلد قبول کرتے ہیں بشرطیکہ انہیں تربیت کا ماحول دیا جائے۔ وجہ یہ ہے کہ ان کی پیدائش فطرت کے مطابق ہوئی ہوتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بچہ فطرت(اسلام)پر پیدا ہوتا ہے اس کے بعد اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی(وغیرہ)بنا دیتے ہیں۔ (صحیح البخاری)
فائدہ: بچوں کی فطرت اور جبلت میں اسلام موجود ہوتا ہے اگر ان کو اسلامی احکامات و آداب سے روشناس کرایا جائے تو وہ اسے جلد قبول کر لیتے ہیں۔


:کان میں اذان و اقامت کہنا

:کان میں اذان و اقامت کہنا
:کان میں اذان و اقامت کہنا


حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو تو اس کے دائیں کان میں کلمات اذان اور بائیں کان میں کلمات اقامت کہے اس کی وجہ سے ام الصبیان(یہ ایک بیماری کا نام ہے جس میں بچہ سوکھ کر کانٹا ہو جاتا ہے)نہیں لگے گی۔(عمل الیوم واللیلۃ)


:گھٹی دینا

:گھٹی دینا
:گھٹی دینا


ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھوٹے بچوں کو لایا جاتا آپ ان کو برکت کی دعا دیتے اور انہیں گھٹی دیتے تھے۔ (صحیح مسلم)


:پیدائش کے ساتویں دن

:پیدائش کے ساتویں دن
:پیدائش کے ساتویں دن


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے(بچے کی پیدائش کے)ساتویں دن(اس بچے)کا نام رکھنے، اور اس سے تکلیف دہ چیزوں (بال، ناخن، ختنے کی چمڑی وغیرہ)کو دور کرنے اور عقیقہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ (جامع الترمذی)


:اچھا نام رکھنا

:اچھا نام رکھنا
: :اچھا نام رکھنا اچھا نام رکھنا


حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں قیامت والے دن تمہارے اپنے اور تمہارے باپوں کے ناموں سے پکارا جائے گا اس لیے تم اچھے نام رکھو۔ (سنن ابی داؤد)


:محمد نام رکھنا

:محمد نام رکھنا
:محمد نام رکھنا


حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرما رہے تھے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے نام والا نام رکھو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھو۔ (صحیح مسلم)


:ابوالقاسم کنیت رکھنا


حضرت علی رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یارسول اللہ!اگر آپ کےبعد میرے ہاں کوئی بچہ پیدا ہو تو کیا میں اس کانام محمد اور اس کی کنیت(آپ والی کنیت ابوالقاسم)رکھ سکتاہوں؟ اس بارے آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں (رکھ سکتے ہو)حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ کی یہ بات بطور اجازت کے ہے۔(جامع الترمذی)


:انبیاء کرام والے نام رکھنا


حضرت ابووہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبیوں والے نام رکھو اللہ کو سب سے زیادہ محبوب نام عبداللہ، عبدالرحمٰن ہیں اور ان ناموں میں زیادہ سچے نام حارث اور ہمام ہیں اور برے نام حرب اور مرہ ہیں۔(سنن ابی داؤد)


:اللہ کے پسندیدہ نام


حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل کے ہاں سب سے محبوب اور پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں۔(جامع الترمذی)
نوٹ: ان کے علاوہ بھی احادیث مبارکہ میں اور نام مذکور ہیں جو اچھے ہیں۔


:ناپسندیدہ نام


حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں بہت تاکید سے رافع، برکۃ اور یسار(جیسے)نام رکھنا سے روکتا ہوں۔ (جامع الترمذی)
نوٹ: اس کے علاوہ بھی کئی نام ہیں جنہیں ناپسندیدہ کہا گیا ہے۔


:نام کی تبدیلی


حضرت ا بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ نام بدل دیا تھا اور اور اس خاتون سے کہا کہ تو(تیرا نام)جمیلہ ہے۔ (جامع الترمذی)


:نامناسب فرمائش


ہمارے ہاں یہ فرمائش کی جاتی ہے کہ ایسا نام بتاؤ کہ وہ نام پہلے پوری برادری میں اور کسی کا نہ ہو۔ ایسی فرمائش کرنا اور اس پر اصرار کرنا درست نہیں۔


:بھاری نام


اچھے ناموں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ فلاں نام وزنی اور بھاری ہے بچہ اس کو اٹھا نہیں سکے گا یا یہ نام رکھنے کی وجہ سے بچہ بیمار رہتا ہے۔ یہ سراسر غلط بات ہے اچھے نام بالخصوص انبیاء کرام اور صحابہ کرام والے ناموں میں برکت ہوتی ہے جس کی برکات بچے میں بھی منتقل ہوتی ہیں۔ ان ناموں کو وزنی کہنا غلط ہے اور ان کی وجہ سے بچوں کو بیمار بتلانا بھی انتہائی غلط بات ہے۔


:سر مونڈنا اور زعفران لگانا

:سر مونڈنا اور زعفران لگانا
:سر مونڈنا اور زعفران لگانا


حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جب ہم میں سے کسی کے ہاں بچہ پیدا ہوتا تو وہ ایک بکری ذبح کرتا اور اس بکری کے خون کو بچے کے سر پر مَلتا اس کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کی دولت سے نوازا تو ہم ایک بکری ذبح کرتے اور بچے کے سر کو مونڈاتے ہیں اور اس پر زعفران مل دیتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد)


:بالوں کے برابر چاندی صدقہ کرنا


حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن کی طرف سے ایک بکری کا عقیقہ کیا اور فرمایا: اے فاطمہ اس کے سر کو مونڈو اور اس کے بالوں کی مقدار کے برابر چاندی صدقہ کرو۔ (جامع الترمذی)


:دودھ پلانا


ترجمہ آیت: اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں یہ (دودھ پلانے والا حکم) اس کے لیے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے۔ (سورۃ البقرۃ، آیت نمبر233)


جب بولنا شروع کرے


حضرت ا بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچوں کو سب سے پہلے کلمہ(لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ)سکھلاؤ۔ (شعب الایمان للبیہقی)


:کھانے کے آداب

:کھانے کے آداب
:کھانے کے آداب


حضرت وہب بن کیسان ر حمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے عمر بن ابی سلمہ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیرتربیت تھا(ایک دن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا)اور میرا ہاتھ سالن والے برتن میں گھوم رہا تھا(جیسا کہ عام طور پر بچوں کی عادت ہوتی ہے اپنے سامنے سے بھی کھاتے ہیں اور دوسروں کے سامنے سے بھی چیزیں اٹھا لیتے ہیں)تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بچے!بسم اللہ پڑھو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔ (صحیح البخاری)


:درختوں سے پھل توڑنا

:درختوں سے پھل توڑنا
:درختوں سے پھل توڑنا


ابو رافع بن عمرو الغفاری رضی اللہ عنہ کے چچا سے مروی ہے کہ جب میں بچہ تھا ان دنوں میں انصار کی کھجور توڑ رہا تھا مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے بچے!تم(بغیر اجازت)کیوں کھجور توڑ رہے تھے؟ تو میں نے کہا کہ اپنے کھانے کے لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ(کسی کی کھجور) مت توڑو۔ ہاں جو نیچے گری ہوئی ہیں ان کو کھا لو۔ پھر میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے یہ دعا دی: اے اللہ اس کے پیٹ کو سیر کر دے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی)


:نماز کی عادت

:نماز کی عادت
:نماز کی عادت


حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اولاد سات سال کی ہو جائے تو ان کو نماز پڑھنے کا کہو اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں پھر بھی نماز نہ پڑھیں تو ان کو مارو اور ان کے بستر بھی الگ الگ کردو۔ (سنن ابی داؤد)


:عقائد کا سبق

:عقائد کا سبق
:عقائد کا سبق

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے بچے! میں تجھے چند(عقیدے کی) باتیں سکھلاتا ہوں: اللہ کے دین کے احکام کی حفاظت کر اللہ تیری حفاظت کرے گا۔ اللہ کے احکام کی حفاظت کر تو اسے اپنا مددگار پائے گا جب تو مانگے تو اللہ ہی سے مانگ اور جب تجھے مدد کی ضرورت ہو تو اللہ سے مانگ اور اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلے کہ اگر سارے لوگ مل کر تجھے نفع دینا چاہیں تو وہ تجھے نہیں دے سکتے جتنا اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے اور اگر سارے لوگ اکٹھے ہوجائیں اور تجھے نقصان پہنچانا چاہیں تو نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر جتنا اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے، تقدیر لکھنی والی قلموں کو اٹھا لیا گیا اور صحائف خشک ہوچکے ہیں۔ (جامع الترمذی)


:تادیبی مار پیٹ

:تادیبی مار پیٹ
:تادیبی مار پیٹ


حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:گھر میں کوڑا اس طرح لٹکاؤ کہ وہ اسے دیکھتے رہیں یہ ان کو ادب سکھلانے کے لیے ہے(کہ سرزنش بھی ہو سکتی ہے)۔ (المعجم الکبیر للطبرانی)


:اولاد میں برابری


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ چیزیں دینے میں اپنی اولاد میں برابری کا معاملہ کرو۔ (صحیح البخاری)


:بددعا نہ دیں


حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے آپ پر بددعا نہ کرو، نہ اپنی اولاد کو بددعا دو اور نہ ہی اپنے خدمت کرنے والوں کو بددعا دو اور نہ اپنے مالوں پر بددعا کرو بعض اوقات اللہ کی طرف سے قبولیت کی گھڑی ہوتی ہے تو وہ بددعائیں قبول ہو جاتی ہیں۔ (سنن ابی داؤد)
اللہ تعالیٰ ہمارے بچوں کوبلکہ ہماری نسلوں کو ایک اچھا مسلمان اور ایک اچھا شہری بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم

Read More: Top 10 Amazing Benefits and Uses of Roses Water (Arq Gulab) for Skin and Hair

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *