ریاست مدینہ کا ایک واقعہ

پاکستان میں اس وقت کی بڑھتی مہنگی نے غر یب کا جینا تو دشوار کر دیا ہے وہیں مڈل کلاس طبقہ بھی بہت مشکل سے گزار رہاہے۔پاکستان میں اس وقت تقر بیا 50 ملین مڈل کلاس طبقہ زند گی بسر کر رہا ہے۔مڈل کلا س طبقےکی فہرست میں وہ عوام الناس ہیں جن کی ماہانہ آمدنی 50 ہزار روپے ہو اور اس و قت پاکستان کی کل آبادی میں سے 39 فیصد آبادی سطح غر بت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔پچھلے تین سالوں میں اس عوام کو ٹرک کی بتی کے پچھے لگا کر جو ڈنڈ ے مارے جا رہے ہیں وہ ہر پاکستانی کو پتہ ہے ۔ریاست مد ینہ کے قیام کے لیے بہت محنت اور قر با نیاں دی گئیں لیکن ایک عر صے کے بعد اس کا قیام وجود میں آیا۔اس وقت کے حکمرانوں اپنی رعایا کی فکر کس حد تک کرتے تھے ۔امیرالمومنین حضرتِ عمر بن خطابؓ نے ایک مرتبہ شدید سرد اور تاریک رات میں ایک جگہ آگ روشن دیکھی۔ چناں چہ وہاں تشریف لے گئے۔ ان کے ساتھ جلیل القدر صحابی حضرتِ عبدالرحمن بن عوفؓ بھی تھے۔
حضرتِ عمرؓ نے آگ کے پاس ایک عورت کو دیکھا جس کے تین بچے زار و قطار رو رہے تھے۔
ایک بچہ کہہ رہا تھا: امی جان! ان آنسوؤں پر رحم کھا اور کچھ کھانے کو دو۔ دوسرا بچہ یہ کہہ کر رو رہا تھا! لگتا ہے شدید بھوک سے جان چلی جائے گی۔ تیسرا بچہ یہ کہہ کر رہا تھا: امی جان ! کیا موت کی آغوش میں جانے سے پہلے مجھے کچھ کھانے کو مل سکتا ہے۔۔۔۔ ؟
حضرتِ عمر بن خطابؓ آگ کے پاس بیٹھ گئے اور عورت سے پوچھا: اے اﷲ کی بندی! تیرے اس حال کا ذمے دار کون ہے۔۔۔۔ ؟
عورت نے جواب دیا: میری اس حالت کا ذمے دار امیرالمومنین عمرؓ ہے۔ حضرتِ عمرؓ نے اس سے فرمایا: کوئی ہے جس نے عمر کو تمھارے اس حال سے آگاہ کیا ہو؟
عورت نے جواب دیا: ہمارا حکمران ہوکر وہ ہم سے غافل رہے گا ؟ یہ کیسا حکمران ہے، جس کو اپنی رعایا کی کچھ خبر نہیں ؟یہ جواب سن کر حضرتِ عمرؓ بیت المال گئے اور دروازہ کھولا۔
بیت المال کا محافط بولا: خیر تو ہے امیرالمومنینؓ ؟
حضرتِ عمرؓ نے اس کا جواب نہیں دیا اور آٹے کی ایک بوری، گھی اور شہد کا ایک ایک ڈبا بیت المال سے نکالا اور چوکی دار سے فرمایا: انہیں میرے پیٹھ پر لاد دو۔
چوکی دار نے عرض کیا: آپ چاہتے کیا ہیں۔
حضرتِ عمرؓ نے فرمایا: میری پیٹھ پر لاد دو۔
چوکی دار نے عرض کیا: آپؓ یہ چیزیں اپنی پیٹھ پر نہ لادیں، اے امیر المومنینؓ!
چوکی دار نے کوشش کی کہ امیرالمومنین کا تیار کردہ سامان وہ خود اپنی پیٹھ پر لاد لے لیکن امیر المومنینؓ نے سختی سے انکار کیا اور اس سے یوں مخاطب ہوئے: ’’تیری ماں تجھے کھو دے۔ یہ سامان میری پیٹھ پر لاد دو، کیا قیامت کے روز تم میرے گناہوں کا بوجھ اٹھاؤ گے؟‘‘ یہ کہہ کر حضرت عمرؓ نے آٹا، گھی اور شہد اپنی پیٹھ پر لاد لیا۔
جب اس عورت کے گھر پہنچے تو آگ کے پاس بیٹھ گئے اور ان بچوں کے لیے کھانا پکایا۔ جب کھانا تیار ہوگیا تو اس میں گھی اور شہد کی آمیزش کی اور اپنے مبارک ہاتھوں سے بچوں کو کھانا کھلایا۔
یہ منظر دیکھ کر ان یتیم بچوں کی ماں کہنے لگی۔
’’قسم اﷲ کی! تم عمرؓ سے کئی زیادہ منصبِ خلافت کے اہل ہو۔‘‘
حضرتِ عمرؓ نے اس سے فرمایا: اے اﷲ کی بندی! کل عمرؓ کے پاس جا، وہاں میں ہوں گا اور تمھارے معاملات کے متعلق اس سے سفارش کروں گا۔
یہ کہہ کر حضرتِ عمرؓ واپس آگئے اور ایک چٹان کے پیچھے آکر بیٹھے رہے اور ان بچوں کو دیکھتے رہے۔ حضرتِ عبدالرحمن بن عوفؓ نے حضرتِ عمرؓ سے کہا: آئیے! واپس چلتے ہیں کیوں کہ رات بہت ٹھنڈی ہے۔ حضرتِ عمرؓ نے فرمایا: اﷲ کی قسم ! میں اپنی جگہ اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک ان بچوں کو ہنستا ہوا نہ دیکھ لوں، جیسے میں نے آتے وقت انھیں روتے ہوئے دیکھا تھا۔
جب اگلے روز کا سورج طلوع ہوا تو اس یتیم بچوں کی ماں دربارِ خلافت میں گئی۔ وہاں اس نے دیکھا کہ یہ وہی شخص تھا جس نے گزشتہ رات اس عورت اور اس کے بچوں کی خدمت میں گزاری تھی، جس سے اس نے کہا تھا: میری اس حالت کا ذمے دار عمرؓ ہے۔ چناں چہ جب عورت کی نگاہ حضرتِ عمرؓ پر پڑی تو گویا اس کے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی۔
امیر المومنینؓ نے عورت سے فرمایا: اﷲ کی بندی! تیرا کوئی قصور نہیں، چل بتا، تو اپنی شکایت کتنی قیمت کے عوض فروخت کرے گی۔
عورت گویا ہوئی: معاف فرمائیے اے امیرالمومنینؓ !
حضرتِ عمرؓ نے فرمایا: قسم اﷲ کی! تُو اس جگہ سے ہٹ نہیں سکتی ہو جب تک کہ میرے ہاتھ اپنی شکایت بیچ نہ دو۔ بالآخر حضرتِ عمرؓ نے اس بیوہ خاتون کی شکایت اپنے مالِ خاص سے چھے سو درہم کے عوض خرید لی۔
یہ تھے ہمارے حکمران جو عوام کی جان و مال کے نگہہ بان تھے اور اپنی رعایا کا خیال رکھنے میں کتنے سنجیدہ اور خود کو کتنا ذمے دار سمجھتے تھے۔کاش کے یہ واقعہ ہمارے مو جودہ حکمران بھی پڑ ھ لیں تا کہ ان کو ریاست مدینہ کا اصل مقصد سمجھ آ جائے۔صرف تقر یروں اور باتوں سے کچھ نہیں ہوتا عملا بھی کرنا پڑ تا ہے۔
اﷲ پاک ہمیں بھی ایسے ہی حکمران عطا فرمائے۔ (آمین)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *